امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی پرواز کے دوران روایتی ’ایئر فورس ٹو‘ کے بجائے ’SAM095‘ کال سائن کے استعمال نے توجہ حاصل کر لی، جسے ماہرین نے غیر معمولی مگر سکیورٹی کے تقاضوں کے مطابق قرار دیا ہے۔
US Vice President JD Vance said he was looking forward to upcoming negotiations with Iran and that he expected the talks in Islamabad to be positive https://t.co/uDepmaGCLL pic.twitter.com/kj2Rpg9gTn
— Reuters (@Reuters) April 10, 2026
میڈیا رپورٹ کے مطابق عام طور پر جب امریکی نائب صدر امریکی فضائیہ کے طیارے میں سفر کرتے ہیں تو اسے ’ایئر فورس ٹو‘ کہا جاتا ہے، جس سے پرواز کی فوری شناخت ممکن ہو جاتی ہے۔ تاہم حساس نوعیت کے مشنز، خصوصاً ایسے حالات میں جہاں علاقائی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات زیادہ ہوں، ’اسپیشل ایئر مشن‘ (SAM) کال سائن استعمال کیا جاتا ہے تاکہ پرواز کی شناخت کم نمایاں رہے، رازداری برقرار رکھی جا سکے اور ٹریکنگ کو مشکل بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:’دیکھا جائے گا کہ صورتحال کس طرف جاتی ہے‘، ڈونلڈ ٹرمپ کا اسلام آباد مذاکرات پر تبصرہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کے گرد غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات اور عالمی اہمیت کے پیش نظر کال سائن کی یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مذاکرات کس قدر حساس نوعیت کے ہیں اور ان کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہو سکتے ہیں۔













