امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور دونوں ممالک نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ پاکستان کی ثالثی میں دوسرے دور کی بات چیت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سینیئر صحافی انصار عباسی کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے ساتھ 22 اپریل کی جنگ بندی ڈیڈ لائن سے قبل مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے رابطے میں ہے۔
BREAKING: Pakistan is in contact with USA and Iran for second round of talks before 22nd April ceasefire deadline.https://t.co/2qiEfeKy1p
— Ansar Abbasi (@AnsarAAbbasi) April 13, 2026
انصار عباسی کے مطابق اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے ابتدائی مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے، تاہم فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد پاکستان نے سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں تاکہ مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھا جا سکے۔
مزید پڑھیں: معرکۂ امن، اسلام آباد کی دہلیز پر بدلتی دنیا
ان کے مطابق پاکستان اس وقت امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور انہیں جلد از جلد دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکام کی توجہ 22 اپریل کی جنگ بندی ڈیڈ لائن سے قبل کسی قابل عمل حل تک پہنچنے پر مرکوز ہے تاکہ خطے میں کشیدگی دوبارہ نہ بڑھے۔
اس عمل میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور آرمی چیف عاصم منیر کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے اس سفارتی مشن کو اعلیٰ ترجیح دی جا رہی ہے۔ حکام کو امید ہے کہ مسلسل رابطوں کے ذریعے پیشرفت ممکن بنائی جا سکے گی۔
دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں ممالک نے مذاکرات جاری رکھنے اور جلد ایک اور ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق بات چیت ختم نہیں ہوئی بلکہ سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں، جبکہ آئندہ ملاقات کے وقت اور مقام کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ طویل مذاکرات کے دوران کچھ معاملات پر پیشرفت ہوئی، تاہم چند اہم نکات پر فریقین کو اپنی قیادت سے مزید رہنمائی درکار ہے۔ اسی تناظر میں امریکی نائب صدر نے بھی عندیہ دیا ہے کہ صدر سے مشاورت کے بعد دوبارہ ملاقات متوقع ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فریقین کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، جس میں توسیع کے لیے بالواسطہ رابطے جاری رکھے جائیں گے، جبکہ اس عمل میں پاکستان کے ساتھ چین اور ترکیہ بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ادھر سینیئر اینکرپسن شہزاد اقبال نے بھی تصدیق کی ہے کہ مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ بات چیت کے ذریعے دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ کئی نکات پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آ چکے تھے، تاہم چند اہم معاملات پر مکمل اتفاق نہ ہونے کے باعث حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
ذرائع کے مطابق جنگ بندی 21 یا 22 اپریل تک برقرار ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر اس دوران معاہدہ نہ بھی ہو سکا تو سیز فائر میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ تمام فریقین تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں، تاہم حتمی پیشرفت کا انحصار آئندہ مذاکرات اور سیاسی عزم پر ہوگا۔











