امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جان برینن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی آئین کی 25ویں ترمیم گویا انہی کے لیے لکھی گئی تھی۔
برینن، جو سابق صدر براک اوباما کے دور میں سی آئی اے کے سربراہ رہے، نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف ٹرمپ کے حالیہ سخت اور غیر متوازن بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ منصب صدارت کے لیے موزوں نہیں رہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ کا طرزِ عمل خطرناک ہے اور وہ انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ہنگری میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ وزیراعظم کے 16 سالہ اقتدار کا خاتمہ، اپوزیشن کی تاریخی فتح
انہوں نے کہا کہ ’یہ شخص واضح طور پر غیر متوازن ہے‘ اور ایسے صدر کو، جس کے پاس جوہری ہتھیاروں سمیت بے پناہ طاقت ہو، مزید اقتدار میں رہنے دینا ایک بڑا خطرہ ہو سکتا ہے۔
برینن کے بیان نے امریکا میں اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے جو ایران کے ساتھ کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے تناظر میں پہلے ہی جاری ہے۔ چند روز قبل ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے ان کے مطالبات نہ مانے تو اس کی ’پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے‘، جسے ناقدین نے انتہائی خطرناک بیان قرار دیا۔
امریکی آئین کی 25ویں ترمیم، جو 1967 میں شامل کی گئی تھی، نائب صدر اور کابینہ کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ صدر کو عہدے کے فرائض انجام دینے کے قابل نہ ہونے کی صورت میں ہٹا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سی آئی اے اور ایم آئی6 نے 4 سال قبل روس کے یوکرین پر حملے کا پیشگی اندازہ کیسے لگایا؟
رپورٹس کے مطابق کانگریس میں 70 سے زائد ڈیموکریٹ ارکان اس ترمیم کے نفاذ کا مطالبہ کر چکے ہیں، تاہم نائب صدر جے ڈی وینس اور کابینہ کی ٹرمپ سے وفاداری کے باعث اس امکان کو کم سمجھا جا رہا ہے۔
ادھر برینن خود بھی محکمہ انصاف کی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم ان کے حالیہ بیان نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔












