امریکی پاپ آئیکون برٹنی اسپیئرز نے مبینہ طور پر نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کے الزام میں گرفتاری کے بعد خود کو رضاکارانہ طور پر ایک بحالی مرکز میں داخل کرا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام ان کی زندگی میں بہتری لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
44 سالہ گلوکارہ کو 4 مارچ کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر وینچورا میں منشیات اور الکحل کے زیر اثر گاڑی چلانے کے شبے میں حراست میں لیا گیا تھا، تاہم انہیں اگلے ہی روز رہا کر دیا گیا۔
ان کے نمائندے نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ’ناقابلِ قبول‘ تھا اور اب وہ اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنی شخصیت میں ضروری تبدیلیوں پر توجہ دے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے معروف امریکی گلوکارہ برٹنی سپیئرز گرفتار، وجہ کیا بنی؟
قریبی ذرائع کے مطابق گلوکارہ کے لیے بحالی مرکز میں داخل ہونا ان کی فلاح و بہبود کے لیے ’بہترین قدم‘ سمجھا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کے قریبی افراد کافی عرصے سے انہیں مدد حاصل کرنے کا مشورہ دے رہے تھے، جس پر انہوں نے بالآخر آمادگی ظاہر کی۔
رپورٹس کے مطابق برٹنی اسپیئرز کو اپنے حالیہ واقعے پر افسوس ہے، خاص طور پر اس کے ذاتی زندگی اور بچوں پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے۔ اس وقت ان کی توجہ علاج، خود احتسابی اور زندگی میں استحکام بحال کرنے پر مرکوز ہے۔
ڈی یو آئی کیس کے سلسلے میں ان کی عدالت میں پیشی 4 مئی کو متوقع ہے۔ نمائندے کے مطابق وہ قانون کا سامنا کریں گی اور امید ہے کہ یہ مرحلہ ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی کا آغاز ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے برٹنی اسپیئرز کی کتاب ’دی وومن ان می‘ فروخت کے ریکارڈ توڑ سکے گی؟
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برٹنی اسپیئرز گزشتہ چند برسوں سے عوامی توجہ اور ذاتی مسائل کے باعث خبروں میں رہی ہیں، اور اب وہ اپنی صحت اور مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہیں۔














