پوپ لیو چہاردہم نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت تنقید کے بعد بھرپور ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خوف زدہ نہیں لیکن کسی بحث میں پڑنا نہیں چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں: پوپ لیو نے ایران جنگ ختم کرنے اور امن مذاکرات کی اپیل کردی
اتوار کے روز گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں پوپ لیو کو ایران جنگ کے حوالے سے مؤقف پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں جرائم کے معاملے میں کمزور اور خارجہ پالیسی کے لیے خراب قرار دیا جبکہ یہ بھی کہا کہ وہ پوپ کے بڑے مداح نہیں ہیں۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے پوپ کو پسند نہیں کرتے جو یہ کہے کہ جوہری ہتھیار رکھنا ٹھیک ہے اور وہ ایسے شخص ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایسے ملک کے ساتھ کھیل نہیں کرنا چاہیے جو دنیا کو تباہ کرنے کے لیے جوہری ہتھیار چاہتا ہے۔
اس کے جواب میں پوپ لیو نے الجزائر جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ ٹرمپ سے خوفزدہ نہیں ہیں اور نہ ہی وہ صدر کے ساتھ کسی بحث میں پڑنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے ٹرمپ انتظامیہ سے کوئی خوف نہیں اور نہ ہی میں انجیل کے پیغام کو بلند آواز میں بیان کرنے سے ڈرتا ہوں کیونکہ یہی میرا اور چرچ کا مقصد ہے۔
مزید پڑھیے: پوپ لیو چہاردہم کا ایران حملوں پر پہلا ردعمل، ہتھیاروں کے بجائے مکالمے پر زور
انہوں نے مزید کہا کہ میں ٹرمپ کے ساتھ بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کیونکہ میرا کردار سیاستدانوں سے مختلف ہے اور میری ذمہ داری امن کا پیغام پھیلانا ہے۔
پوپ لیو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دنیا اس وقت متعدد تنازعات کی لپیٹ میں ہے اور لوگ شدید تکلیف کا شکار ہیں جبکہ بے شمار بے گناہ جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کسی کو کھڑے ہو کر یہ کہنا ہوگا کہ اس کا ایک بہتر طریقہ بھی موجود ہے۔
اپنے پیشرو کی انسان دوست روایت کو جاری رکھتے ہوئے پوپ لیو نے ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق ایران کے حوالے سے پوری تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دینا ناقابل قبول ہے۔
مزید پڑھیں: پوپ لیو کی یورپ میں پھیلتے اسلاموفوبیا پر کڑی تنقید، لبنان میں امن کی اپیل
صدر ٹرمپ کی جانب سے پوپ پر اس شدید تنقید پر دنیا بھر کے کیتھولک افراد نے ردعمل ظاہر کیا۔ اطالوی مؤرخ ماسیمو فاجیولی کے مطابق ہٹلر یا مسولینی نے بھی پوپ پر اس طرح کھلے عام اور براہ راست حملہ نہیں کیا تھا۔














