بنگلہ دیش: جولائی چارٹر پر تنازع، اپوزیشن کی حکومت کو آخری وارننگ

پیر 13 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو متنازع ’جولائی چارٹر‘ کے معاملے پر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے اس کی مخالفت جاری رکھی تو ملک ایک سنگین سیاسی بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

ڈھاکہ میں انسٹیٹیوشن آف ڈپلومہ انجینیئرز بنگلہ دیش میں 11 جماعتی اتحاد کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر اور جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ حکومت جولائی چارٹر کی مخالفت کر کے احتساب سے نہیں بچ سکتی۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی سابق اسپیکر شرین شرمین چوہدری عوامی احتجاج کے دوران تشدد کے کیس میں گرفتار

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات سے قبل اصلاحات کو نظر انداز کرنے کی حکومتی پالیسی ملک کو بحران کی طرف لے جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کو کسی کی ذاتی جاگیر نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی اسے یرغمال رکھا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر شفیق الرحمان نے پارلیمنٹ میں حکومت کے طرزِ عمل کو ’آمرانہ رجحانات‘ قرار دیتے ہوئے ریفرنڈم کی قانونی حیثیت پر حکومتی مؤقف میں تضاد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

’کبھی اسے جائز اور کبھی غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے، جبکہ عوام نے نمائندوں کو اپنی آواز اٹھانے کے لیے منتخب کیا ہے، نہ کہ ٹی وی پر دکھاوے کے لیے۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جولائی تحریک عام شہریوں کی جانب سے آئینی اصلاحات اور نئے سیاسی نظام کے قیام کے لیے شروع کی گئی، اور اپوزیشن اس تحریک میں صفِ اول میں رہے گی۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انسانی حقوق اور جبری گمشدگیوں کے خلاف قوانین میں تاخیر پر تشویش

سیمینار کے کلیدی مقرر سپریم کورٹ کے سینئر وکیل شیشیر منیر نے پارلیمنٹ کے اختیارات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کئی آئینی ترامیم عدالتوں نے غیر آئینی قرار دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم عوام کی براہِ راست رائے کا اظہار ہوتا ہے اور 2026 کا ووٹ واضح سوال کی بنیاد پر لیا گیا تھا۔

دیگر مقررین میں اپوزیشن چیف وہپ اور این سی پی کے کنوینر ناہید اسلام، ایل ڈی پی کے سربراہ علی احمد، جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل میاں غلام پرور اور تجزیہ کار دل آرا چوہدری شامل تھے، جنہوں نے ریفرنڈم کے مطابق جولائی چارٹر پر عملدرآمد پر زور دیا۔

صحافی محمود الرحمن نے ریفرنڈم کو ’انقلابی جذبے‘ کا حصہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اسے قانونی بحثوں کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی بحران کی بنیادی وجہ حکومتی وعدوں کی خلاف ورزی ہے، اور حکومت کو عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی جنگی جرائم ٹریبونل میں 2 ریٹائرڈ جرنیلوں کی گرفتاری ظاہر کرنے کی استدعا

اختتامی خطاب میں خلافت مجلس کے سربراہ مامون الحق نے خبردار کیا کہ اگر عوامی رائے کو نظر انداز کیا گیا تو بحران کا حل سڑکوں پر نکل سکتا ہے۔

سیمینار کے اختتام پر اپوزیشن رہنماؤں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ ریفرنڈم کے فیصلے کے مطابق جولائی چارٹر کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp