خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا و ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات کی ناکامی کی خبروں نے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہفتے کے آغاز ہی سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
مارکیٹ کی صورتحال: اعداد و شمار کی روشنی میں
آج ٹریڈنگ کے دوران مارکیٹ نے منفی زون میں سفر شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے 100 انڈیکس میں 5 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے اور کئی بڑے سیکٹرز کے شیئرز کی قیمتیں کم ترین سطح پر آ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
یہی صورت حال دنیا کی دیگر اسٹاک مارکیٹس کی بھی رہی جس کی کڑی امریکا ایران کشیدگی سے جڑی ہے اور اگر یہ کشیدگی ختم نہیں ہوتی تو پوری دنیا معاشی بحران کی لپیٹ میں آسکتی ہے۔
مندی کی بنیادی وجوہات
تجزیہ کارجبران احمد کے مطابق مارکیٹ میں اس مندی کی 3 بڑی وجوہات ہیں، امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی نے خطے میں جنگ کے خطرات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
The Pakistan Stock Exchange plunged nearly 4% on Monday amid heavy selling pressure and a volatile trading environment, driven by escalating geopolitical uncertainties and rising global oil prices. https://t.co/ZGLeBICKkn pic.twitter.com/bctfUsrNDv
— Investify Pakistan (@investifypk) April 13, 2026
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے ڈر سے مقامی توانائی اور سیمنٹ سیکٹر کے حصص میں گراوٹ دیکھی گئی، غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں نے ’انتظارکرواوردیکھو‘ کی پالیسی اپناتے ہوئے اپنا سرمایہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔
اسٹاک ایکسچینج کے ماہر شہریار بٹ کے مطابق اسلام آباد میں منعقدہ امریکا ایران مذاکرات میں ناکامی اور اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانات اور خاص طور پہ آبنائے ہرمز پہ ناکہ بندی کی خبروں کے باعث آج دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں مندی کی لپیٹ میں رہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستانی بینکوں کی نمو کے لیے بہتر مواقع ملنے کی توقع ہے، فچ ریٹنگز
انکا کہنا ہے کہ آج پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز 5 ہزار سے زائد پوائنٹ کمی کے ساتھ ہوا، مارکیٹ تمام دن ریڈ زون میں ٹریڈ کرتی رہی۔ مارکیٹ 7032 پوائنٹ نیچے جانے کے بعد 1 لاکھ 60158 پر آئی اور مارکیٹ کی کلوزنگ 1 لاکھ 60591 کے لیول پر ہوئی یوں تقریبا 6600 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ 73 کروڑ شیئرز سے زائد کا آج مارکیٹ میں کام ہوا، خاص طور پہ اگر والیوم لیڈرکی بات کریں تو ڈبلیو ٹی ایل والیوم لیڈر رہا پانچ پیسے کا اضافہ بھی ہوا اور 176 ملین شیئرزاس میں ٹریڈ ہوئے جبکہ سوئی سدرن میں اچھے والیوم کے ساتھ کام ہوا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے بعد استحکام، انڈیکس میں 837 پوائنٹس کا اضافہ
جبکہ دوسری طرف اگر پوائنٹس کنٹریبیوشن کی اگر ہم بات کر لیں مارکیٹ کے اندر سب سے زیادہ نیگیٹو کنٹریبیوٹر آج بینکنگ اسٹاکس رہے جن میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، 2000 کے لگ بھگ پوائنٹس تک نیگیٹو کنٹریبیوٹ کیے جبکہ دوسری طرف ائل اینڈ گیس سیکٹر اور فرٹیلائزر، سیمنٹس اور انویسٹمنٹ بینکنگ نے مارکیٹ میں نیگیٹو کنٹریبیوٹ کرتے رہے۔
خاص طور پر مارکیٹ میں آج 369 کمپنیز آج ریڈ زون میں بند رہیں جبکہ 65 کمپنیز ایسی تھیں جو کہ مثبت رہیں ۔ اب بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیانات آ رہے ہیں اور بعض خبروں کے مطابق جس طرح سے سوشل میڈیا پہ صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف کوئی محدود فضائی کارروائی کی قیاس آرائیاں سامنے آرہی ہیں، جنگ بندی کی خلاف ورزی اس وقت انتہائی خطرناک ہوگی۔
مزید پڑھیں:فچ ریٹنگ نے پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ نئے معاہدے کے لیے خطرات کی نشاندہی کر دی
ماہر اسٹاک مارکیٹ حمزہ گیلانی کے مطابق ہم نے دیکھا کہ تیل کی قیمتیں دنیا میں دوبارہ اوپر چلی گئی ہیں، اور اس وقت 105 ڈالر کے قریب ہوگئی ہیں، تقریبا 8 ڈالر کا اضافہ آج ریکارڈ کیا گیا جبکہ سونے کی قیمت میں 50 ڈالر کی کمی دیکھی گئی۔
دوسری جانب ایشین مارکیٹس بری طرح سے نیچے آئی ہیں۔ خاص طور پہ انڈین مارکیٹ 1 فیصد ڈاؤن ہے، جبکہ شنگھائی اسٹاک مارکیٹ میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، ساتھ ساتھ یورپین مارکیٹوں میں بھی بری طرح سے مندی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی سبسڈی کی اجازت دے دی
حمزہ گیلانی کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھاجارہا ہے، یہی صورتحال آئندہ دنوں میں بھی لگتا ہے کہ برقرار رہے گی، جب تک اس جنگ کا مستقل حل نہیں نکل جاتا۔
’اس دوران ہماری حکمت عملی ’انتظاراورمشاہدے‘ پر مبنی ہونی چاہیے، جب تک ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کا کوئی ٹھوس راستہ نہیں نکلتا، اسٹاک مارکیٹ میں استحکام آنا مشکل ہے، اگر سفارتی محاذ پر پیش رفت نہ ہوئی تو انڈیکس مزید نیچے گر سکتا ہے۔‘













