بنگلہ دیش میں حال ہی میں منظور کیے گئے بینک ریزولوشن ایکٹ 2026 پر بدعنوانی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ ایک اہم انسداد بدعنوانی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یہ قانون مبینہ مالی بدعنوان عناصر کی واپسی کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
انسداد بدعنوانی کی عالمی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (ٹی آئی بی) نے نئے قانون پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بینکاری شعبے میں احتساب کا نظام کمزور پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عبوری حکومت بیوروکریسی کے دباؤ کے آگے جھک گئی، اصلاحاتی اہداف حاصل نہ ہو سکے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش
تنظیم کے مطابق اس قانون میں ایسی شقیں شامل ہیں جن کے تحت ناکام یا ضم ہونے والے بینکوں کے سابق شیئر ہولڈرز بغیر کسی قانونی کارروائی کے دوبارہ ملکیت حاصل کر سکتے ہیں۔
ٹی آئی بی نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے مالیاتی شعبہ دوبارہ بدعنوانی اور بدانتظامی کا گڑھ بن سکتا ہے۔ تنظیم کے ایگزیکٹوڈائریکٹرافتخارالزماں نے کہا کہ نئی قانون سازی انصاف کے بجائے عملاً استثنیٰ فراہم کرتی ہے۔
TIB warns of rehabilitation of bank looters https://t.co/UpoYFOyNz1
— Just News BD (@justnewsbd) April 13, 2026
انہوں نے کہا کہ یہ قانون ماضی کی گورننس کی ناکامیوں، بے ضابطگیوں اور نظامی بدعنوانی کو ختم کرنے کے بجائے غیر احتسابی کلچر کو مزید تقویت دیتا ہے، جو سابقہ حکومتوں کے ادوار میں جڑ پکڑ چکا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بینک ریزولوشن آرڈیننس 2025 کے تحت ایسے افراد کو بینکوں کی ملکیت دوبارہ حاصل کرنے سے روکا گیا تھا جو بینکوں کے دیوالیہ ہونے کے ذمہ دار تھے، چاہے وہ رقوم واپس بھی کر دیں۔
’تاہم نئے قانون میں ترمیم کے ذریعے یہ پابندی ختم کر دی گئی ہے، جس سے ماضی میں مالی بدعنوانی میں ملوث افراد کو سازگار شرائط پر دوبارہ داخلے کی اجازت مل گئی ہے۔‘
مزید پڑھیں: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا بنگلہ دیشی وزیر اعظم طارق رحمان سے پارٹی اصلاحات کو اولین ترجیح دینے کا مطالبہ
ٹی آئی بی نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ سابق بینک مالکان کو محض 7.5 فیصد رقم پیشگی ادا کرکے دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے، جبکہ باقی رقم 2 سال میں کم شرح سود پر ادا کی جا سکتی ہے۔
تنظیم نے اس دعوے پر بھی شکوک کا اظہار کیا کہ ایسے مالکان نئی سرمایہ کاری کریں گے، جمع کنندگان کی رقوم واپس کریں گے اورریگولیٹری تقاضے پورے کریں گے۔
ادارے نے بنگلہ دیش بینک کے کردارپربھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مفادات کے ٹکراؤ کے باعث موثر نگرانی اور قانون پرعملدرآمد متاثر ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: دنیا کے 95 فیصد ممالک کرپشن میں کمی لانے میں ناکام: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل
ٹی آئی بی کے مطابق اس پالیسی کے نتیجے میں نرم شرائط پر مزید قرضے لیے جا سکتے ہیں، جو مالی عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ جب تک ماضی کے بینکاری بحرانوں کے ذمہ دار افراد کا قانونی احتساب یقینی نہیں بنایا جاتا، اس شعبے میں حقیقی اصلاحات ممکن نہیں۔
ٹی آئی بی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا یہ قانون حکومت کے مالیاتی اداروں کی اصلاح کے دعووں سے ہم آہنگ ہے یا محض بااثر مفاداتی گروہوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
ادارے نے اس اقدام کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے قانون پر نظرثانی کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ کسی بھی نئے مالی بحران کا بوجھ بالآخر عام شہریوں پر ہی پڑے گا۔













