ایران امریکا جنگ کے دوران پاکستان کا اہم کردار، پیپلز پارٹی کہاں غائب رہی؟

منگل 14 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی جانب سے امریکا ایران جنگ میں ثالثی کا کردار اور اس کے بعد ان ممالک کو مذاکرات کی ٹیبل پر لانا ایک بڑی معاشی کامیابی تھی، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا قد بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے لیکن پاکستان کے اندر سوشل میڈیا پر یہ سوال تیزی سے پھیل رہا ہے کہ اس دوران ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی منظر سے بلکل غائب دکھائی دے رہی ہے، اس حوالے سے مختلف آرا بھی سامنے آرہی ہیں۔

اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کی قیادت سیاسی و عسکری قیادت نے کی، لیکن پیپلز پارٹی نے شیری رحمان اور بلاول بھٹو کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ وہ اس عمل سے غائب نہیں تھے، بلکہ انہوں نے ایک ذمہ دار سیاسی قوت کے طور پر ریاست کے امن بیانیے کو عالمی سطح پر مستحکم کیا۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

سینئر صحافی فیض اللہ خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے موجودہ ایران امریکا کشیدگی میں اہم کردار ادا کرنے کے دوران پاکستان کے اندر سب سے ناکام سیاست دان بلاول بھٹو زرداری نظر آئے باوجود اس کے کہ ان کے والد آصف علی زرداری پاکستان کے صدر ہیں۔

فیض اللہ خان نے وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ جب پی ڈی ایم کی حکومت بنی تو مسلم لیگ ن نے اس وقت بھی اور کچھ دن پہلے بھی پیپلز پارٹی کو پیش کش کی کہ آپ حکومت کا حصہ بن جائیں، لیکن پیپلز پارٹی نے سوچا کہ حکومت کے حصے میں جس طرح کی بدنامیاں ہیں وہ نہیں چاہیں گے کہ اسکا ملبہ ان پر بھی گرے، اس تناظر میں انہوں نے ایک علامتی عہدہ لیا صوبہ سندھ میں انکی حکومت ہے جو خرابی اور بدنامی ہے وہ ن لیگ کے حصہ میں آتی رہے۔

لیکن حالات بدلنے کا کسے علم تھا امریکا ایران جنگ میں پاکستان کے کردار کی دنیا معترف ہے اب سوچیں کہ اگر بلاول وزیر خارجہ ہوتے تو ان کا قد کتنا بڑا ہوتا ان کے تعلقات عالمی سطح پر ابھر کر سامنے آتے، ان کا کہنا ہے کہ جس طرح عام پاکستانی پاکستان کے کردار پر خوش نظر آتا ہے، پیپلز پارٹی بھی خوش ہوگی لیکن بطور پارٹی اس وقت بلاول ہاؤس میں صف ماتم ہوگا کیوں کہ ایک بڑا اور نادر موقع انہوں نے گنوا دیا ہے۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار رفعت سعید کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سیاست میں وقت بہت اہم ہوتا ہے اور یہ وقت مسلم لیگ ن کا ہے اور اسے انہوں نے بہت اچھا استعمال کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ کسے پتا تھا کہ ایران امریکا جنگ ہوگی اور اس میں پاکستان اتنا اہم کردار ادا کرے گا۔

مزید پڑھیں: معرکۂ امن، اسلام آباد کی دہلیز پر بدلتی دنیا

رفعت سعید کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے عادت کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کو ہر معاملے سے باخبر رکھا ہے، پیپلز پارٹی وقت کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت سے دور ہوتی چلی گئی اور اس موقع پر وہ غیر ضروری اس لیے بھی ہو گئے کیوں کہ یہ کام وزیر اعظم فیلڈ مارشل اور وزیر خارجہ کا تھا وہی مین اسٹریم پر نظر بھی آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلم لیگ ن کے دوسرے لوگ ایکٹیو نہیں تھے وہ بھی ہوں گے لیکن نظر انہی کو آنا تھا جن کو آنا چاہیے تھا۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار حمید سومرو کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری مذاکرات کے حوالے سے اس لیے لاتعلق رہے کیوں کہ پیپلزپارٹی وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ہے، پیپلز پارٹی اس نظام کو آگے بڑھنے کے لیے مسلم لیگ ن کی حمایت کررہی ہے، جبکہ نا ہی وہ وفاقی حکومت کا اور نا ہی کابینہ کا حصہ ہے جب وہ حصہ ہی نہیں تو اس سلسلے میں اخلاقی طور پر ان کا کردار بنتا بھی نہیں تھا۔

حمید سومورو کا کہنا ہے کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بلاول بھٹو زرداری اس وقت کسی اچھے منصب پر ہوتے یا وزیرخارجہ ہوتے، لیکن ہر معاملے کے دو رخ ہوتے ہیں جیسے کے ان مذاکرات نے یا تو کامیاب ہونا تھا یا پھر ناکام ہوسکتا ہے پیپلز پارٹی اس وجہ سے بھی پیش پیش نا ہو کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو یہ صرف ن لیگ کے حصے میں جائیں۔

ترجمان حکومت سندھ سیدہ تحسین عابدی کا کہنا ہے کہ یہ تاثر دینا کہ پیپلز پارٹی نظر نہیں آئی، حقائق کے برعکس نے بلاول بھٹو نے الجزیرہ اور سکائی نیوز پر جا کر واضح مؤقف دیا کہ مذاکرات کا ہونا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے، کیونکہ دنیا کے پاس امن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا اگلا مرحلہ بھی پاکستان میں ہونے کا امکان ہے، سفارتی ماہرین

بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن کا خواہاں ہے، لہٰذا پیپلز پارٹی نہ صرف نظر آئی بلکہ پاکستان کا مؤقف دنیا تک پہنچاتی رہی۔ جہاں تک رہی بات صدر آصف علی زرداری کی تو ان کا کردار آئینی ہے نا کہ سیاسی۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر بیانیہ وقتی ہوتا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بننے والے بیانیے کے برعکس بلاول بھٹو زرداری پاکستان سمیت عالمی سطح پر ایک موثر آواز بن چکے ہیں۔ انہوں نے نا صرف پاکستان کا دفاع کیا بلکہ امن مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان ایک زمہ دار ملک ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار