پاکستان کے پیٹرولیم شعبے میں مقامی ریفائننگ صلاحیت موجود ہونے کے باوجود ملک کا انحصار بدستور درآمدات پر ہے، جبکہ خام تیل کی مقامی پیداوار انتہائی محدود ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان سالانہ قریباً 18 سے 19 ملین میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات استعمال کرتا ہے، جن میں پیٹرول، ڈیزل، جیٹ فیول اور فرنس آئل شامل ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ استعمال ٹرانسپورٹ کے ایندھن یعنی پیٹرول اور ڈیزل کا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
اعداد و شمار کے مطابق ڈیزل کی مجموعی طلب قریباً 8.6 ملین میٹرک ٹن ہے، جس میں سے صرف 1.15 ملین میٹرک ٹن مقامی ذرائع سے حاصل ہوتا ہے جبکہ باقی 7.47 ملین میٹرک ٹن درآمد کیا جاتا ہے۔
اسی طرح پیٹرول کی طلب قریباً 6.7 ملین میٹرک ٹن ہے، جس میں سے صرف 0.9 ملین میٹرک ٹن مقامی پیداوار ہے جبکہ 5.8 ملین میٹرک ٹن درآمد پر انحصار کیا جاتا ہے۔
جیٹ فیول کی سالانہ طلب قریباً 1.15 ملین میٹرک ٹن ہے، جس میں مقامی حصہ 0.28 ملین میٹرک ٹن جبکہ درآمدی حصہ 0.87 ملین میٹرک ٹن ہے۔ فرنس آئل میں نسبتاً بہتر صورتحال ہے جہاں قریباً 1.27 ملین میٹرک ٹن مقامی جبکہ 0.51 ملین میٹرک ٹن درآمد کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں اگرچہ قریباً 55 سے 60 فیصد ایندھن مقامی ریفائنریوں میں تیار کیا جاتا ہے، تاہم اس میں استعمال ہونے والا خام تیل زیادہ تر درآمدی ہوتا ہے، اس لیے اسے مکمل مقامی پیداوار نہیں کہا جا سکتا۔
مزید پڑھیں:حالات بہتر ہوتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کردیں گے، حکومت نے اتحادیوں کو اعتماد میں لے لیا
پاکستان کی خام تیل کی مقامی پیداوار صرف 3 سے 4 ملین میٹرک ٹن کے قریب ہے، جس کے باعث مجموعی ایندھن میں حقیقی مقامی حصہ بہت کم رہ جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل میں مقامی حصہ صرف 10 سے 15 فیصد، جیٹ فیول میں 20 سے 25 فیصد جبکہ فرنس آئل میں 60 سے 70 فیصد تک ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی تیاری کے باوجود خام مال کی درآمد پر انحصار برقرار ہے، جس کے باعث ملک توانائی کے شعبے میں مکمل خود کفالت حاصل نہیں کرسکا۔














