تین سفارتی واقعات کی نشاندہی

منگل 14 اپریل 2026
author image

اویس لطیف

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کسی بھی دوسرے رشتے کی طرح (انڈیا سے تعلقات کے) راستے میں بھی رکاوٹیں آئی ہیں، لیکن اسے دوبارہ پٹری پر لانا ذمہ دار قیادت کا کام ہے۔ یہ تبصرہ ہے ڈاکٹر خیل الرحمان کا جو انہوں نے این ڈی ٹی وی کے اینکر وشنو سوم کو دورہ بھارت کے دوران انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کیا۔ ڈاکٹر خلیل بنگلہ دیشی وزیر اعظم کے خارجہ امور کے لیے مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں جو ایک ماہر سفارت کار ہیں، ان کے پس منظر میں سفارت کاری، معیشت اور نیشنل سیکیورٹی جیسے معاملات کا وسیع تجربہ ہے۔ ڈاکٹر خلیل سے قبل بنگلہ دیش کے یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم طارق رحمان کی طرف سے جاری سرکاری ہینڈ آؤٹ کے الفاظ جن میں انہوں نے 25 مارچ 1971 کو پیش آنے والے ایک سانحے کا حوالہ دیا اور پاکستانی فوج کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے۔

پاکستان کی ایران اور امریکا کی ثالثی کی کوششوں کی جہاں دنیا بھر میں تعریف و ستائش ہوئی وہاں بنگلہ دیش نے بالکل انڈیا کی طرف کا رویہ اختیار کیا اور سفارتی کوششوں کی حمایت تو کی مگر پاکستان کا نام نہیں لیا۔ گزشتہ ایک ماہ میں پیش آنے والے ان تینوں واقعات اور سامنے آنے والے بنگلہ دیشی طرز عمل نے پاکستان بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے سفارتی حلقوں میں بے چینی پیدا کی ہے۔

کیا بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی حکومت کے باوجود پاکستان بارے شیخ حسینہ کی پالیسی اختیار کرنے جارہا ہے؟ کیا دونوں ساؤتھ ایشین ممالک کے درمیان گزشتہ ایک سال سے سامنے آنے والی گرمجوشی ماند پڑ رہی ہے یا بنگلہ دیشی حکومت پاکستان اور انڈیا کے درمیان بیلنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ڈاکٹر خلیل الرحمان محمد توحید حسین سے مختلف وزیر خارجہ ثابت ہوں گے

بنگلہ دیش کے خارجہ محاذ پر معاملات سنبھالنے کے لیے وزیر اعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کا انتخاب کیا ہے جو نیشنل سیکیورٹی ایڈوائرز کے طور پر کام کرچکے ہیں اور بنگلہ دیش فرسٹ کی پالیسی لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل نگران حکومت میں یہ عہدہ محمد توحید حسین کے پاس تھا جو بنگلہ دیش کے سابق سیکرٹری خارجہ، افریقہ میں سفیر کے طور پر کام کرچکے ہیں، ان کے بھارت سے تعلقات کے حوالے سے خیالات سفارتی سے زیادہ نظریاتی رہے ہیں مگر ڈاکٹر خلیل مکمل طور پر معاملات کو سفارتی طریقے سے چلانا چاہتے ہیں۔ شاہد وزیر اعظم طارق رحمان نے اپنی کابینہ میں خارجہ امور کا قلمدان کسی پرانے نیشنلسٹ مائینڈ کے رہنما کے دینے کے بجائے ٹیکنو کریٹ کا انتخاب بھی اسی لیے کیا ہے کہ معاملات میں نظیریاتی آمیزش کم سے کم رہے۔

بنگلہ دیشی حکومت کی پالیسی پر نظر ثانی،اعلی حکام کے پاکستانی دوروں کی جاری لہر رک چکی

2سال قبل 2024میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی طویل حکومت کے خاتمے کے بعد بننے والی عبوری حکومت کے دور میں پاکستان کے ساتھ ریاستی سطح پر بنگلہ دیش کی طرف سے بھرپور گرمجوشی دیکھنے میں آئی، سیاسی سطح پر بھی اور عسکری سطح پر بھی کئی اہم دورے اس دوران پاکستان کے کیے گئے جبکہ میڈیا میں یہ بھی رپورٹ ہوا بنگلہ دیش پاکستان سے دفاعی سازو سامان خریدنا چاہتا ہے۔ مگر طارق رحمان کی سربراہی میں بننے والی نئی حکومت کے ابتدائی 3ماہ میں کوئی ایک بھی اعلی سطح دورہ پاکستان رپورٹ نہیں ہوا جبکہ موجودہ مشیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے حوالے سے بھی کوئی واضح شیڈول یا ہدایات سامنے نہیں آئی، یوں محسوس ہوتا ہے عبوری حکومت میں اعلیٰ عہدیداران کے دورہ پاکستان کی جو لہر جاری تھی اس پر وقتی یا کل وقتی رکاوٹیں عائد کی گئی ہیں۔

بنگلہ دیش طویل المدتی منصوبہ بندی میں انڈیا پر انحصار ختم نہیں کر سکتا

جدید سفارتکاری میں کسی ایک ملک کے مقابلے میں کسی دوسرے کے انتخاب جیسے واقعات کم ہی پیش آتے ہیں، تمام ہی ممالک باہمی اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات استوار کیے ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش ساؤتھ ایشیاء میں پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے یہ سوال ہی موجودہ سفارتی دور میں قابل غور نہیں ہے۔ بنگلہ دیش پاکستان اور انڈیا دونوں سے باہمی تعلقات مفادات کی بنیاد پر استوار کرسکتا ہے مگر بنگلہ دیش کے لیے بھارت سے انحصار کم کرنا کوئی آسان آپشن نہیں۔ دونوں ممالک کی طویل مشترکہ سرحد، بجلی، پانی سمیت توانائی جیسے شعبوں میں انحصار بنگلہ دیش کو انڈیا سے زیادہ دیر دور نہیں رکھا سکتا یہی وجہ ہے ڈاکٹر خلیل الرحمان کے حالیہ دورہِ بھارت میں اگر چہ ماضی والی گرمجوشی تو نہیں تھی مگر سامنے آنی والی تفصیلات عکاسی کرتی ہیں کہ بنگلہ دیش بھارت کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی بد گمانی کو کم کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستان بنگلہ دیش کے لیے توانائی کا ایک اہم شراکت دار ہے، جو 1,160 میگاواٹ بجلی فراہم کرتا ہے۔ دونوں ممالک میتری سپر تھرمل پاور پروجیکٹ سمیت توانائی کے مشترکہ منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کا بھارت کی طرف جھکاؤ سارک کے مستقبل کے لیے نیک شگون نہیں

جدید دنیا میں ممالک نہیں خطے ترقی کرتے ہیں شاید اسی وجہ سے ساؤتھ ایشیاء ترقی کی دوڑ میں مسلسل پیچھے ہے کہ یہاں ممالک کے درمیان کوارڈینیشن، کنیکٹیوٹی اور تعاون کے حوالے سے وسیع تر نظم موجود ہی نہیں، 8دسمبر 1985کو ڈھاکہ میں بننے والی تنظیم سارک(ساؤتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن ) پاک بھارت تنازعات کی بھینٹ چڑچکی ہے۔ تنظیم میں شامل دیگر ممالک کے مقابلے میں موثر آواز بھی ان دو ممالک کی ہے اس کے بعد بنگلہ دیش کا نمبر آتا ہے۔ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے بھارتی پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہوئے سارک منصوبے کو بے آف بنگال کی نظر کیا مگر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی مسلسل بھارت کی توجہ اور پاکستان کو کسی حد تک نظر انداز کرنے کی مبینہ پالیسی کے بعد سارک کی بحالی کی کوششوں بھی دنیا برد ہوتی نظر آتی ہیں جس کا وعدہ نیشنلسٹ پارٹی اپنے منشورمیں کرچکی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز پر امریکی شکنجہ: ایران کی سمندری تجارت بند، خطے میں کشیدگی اور عالمی معیشت متاثر

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا