اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

منگل 14 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ترک وزیر خارجہ حاقان فدان سے علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق منگل کی شام ٹیلیفون پر ہونے والی اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری پیش رفت اور حالیہ حالات کا جائزہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی سفارتکاری میں پاکستان کا ڈنکا بج گیا، وزیرخارجہ اسحاق ڈار دنیا کے مقبول ترین لیڈر قرار

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ اہم امور پر قریبی رابطہ اور مشاورت جاری رکھنا نہایت ضروری ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے آنے والے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ہونے والی اہم سفارتی سرگرمیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس فورم کو باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے اہم قرار دیا۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں امن  کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف

ترجمان کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قریبی سفارتی روابط اور ہم آہنگی کو مزید مستحکم بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

’صہیونی لابی سرگرم ہے‘، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کی کوریج پر سخت ردعمل

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کا مضمون لازمی قرار دینے کا فیصلہ

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں