ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ’موجودہ دور کا ہٹلر‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہیے کہ اگر امن بحال نہیں ہوا تو اسرائیل نے اپنی اصلاح نہ کی تو اس کو سبق سکھایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے خطے میں قیام امن کے لیے اہم اور مثبت کردار ادا کیا، رجب طیب اردوان
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک صدر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور جاری کشیدگی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردوان نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ اگرامریکا اور ایران ے درمیان مذاکرات ناکام ہوئے اور خطے میں کشیدگی بڑھتی رہی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے ممکنہ کردار اور ردعمل پر بھی بات کی گئی۔
انہوں نے لیبیا اور کاراباخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ترکیہ مختلف خطوں میں اپنی سفارتی اور اسٹریٹجک پوزیشن کے تحت کردار ادا کر چکا ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ خطے کی صورتحال میں بھی اپنا اثر ڈال سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدرطیب اردوان کا ٹیلیفونک رابطہ، افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال
ترک صدر نے واضح کیا کہ ترکیہ جس طرح لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوا اسی طرح اسرائیل میں بھی داخل ہو سکتا ہے تاہم ان کے مطابق اس کے لیے طاقت اور اتحاد کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خون اور نفرت میں اندھے ہو چکے ہیں۔ ترک صدر کے مطابق جنگ بندی کے دنوں میں بھی اسرائیل نے سیکڑوں بے گناہ لبنانی شہریوں کو قتل کیا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پورے خطے کے امن کی ضمانت ہیں، ترک صدر اردوان
ترک صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی نہ کی ہوتی تو خطے کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی تھی۔














