پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اور صوبائی وزیر زراعت و لائیو اسٹاک عاشق حسین کرمانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں زرعی اصلاحات، کسان دوست پالیسیوں اور گڈ گورننس کے باعث گندم اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاکستان کی غذائی ضروریات کا بڑا حصہ پنجاب پورا کرتا ہے اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے گندم کی خریداری کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے وزیراعلیٰ کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور ایک حالیہ سروے میں بڑی تعداد نے حکومت کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور اور پنجاب کی ترقی پورے ملک کے لیے مثال بن چکی ہے جبکہ حکومت کے جاری منصوبوں میں سے نصف سے زائد مکمل ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت کا کسان دوست اقدام، گندم کے کاشتکاروں کو 6 ارب کا باردانہ مفت دینے کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات اب عوام تک براہِ راست پہنچائی جا رہی ہیں، نئی میٹرو اور گرین بس منصوبے تیزی سے جاری ہیں جبکہ اپریل کے آخر تک مزید 100 گرین بسیں شامل کی جائیں گی۔ عظمیٰ بخاری کے مطابق حکومت کی پالیسیوں سے عوام خود فیصلہ کر چکے ہیں کہ کون ان کی خدمت کر رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر کا ایجنڈا صرف دھرنے اور انتشار ہے جبکہ حکومت کا فوکس عوامی خدمت اور ترقی ہے۔
صوبائی وزیر زراعت و لائیو اسٹاک عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ کسانوں کو جب ان کی فصل کی اصل قیمت ملی تو پیداوار میں اضافہ ہوا، جبکہ سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار میں بھی ریکارڈ بہتری دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال 22.5 ملین ٹن گندم پیدا ہونے کی توقع ہے اور گزشتہ 3 سالوں سے مسلسل پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گندم کے پرانے ذخائر ختم کیے جا چکے ہیں اور ملک کو اب درآمد پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق کاٹن بیج کے معاملے پر وفاق سے بات کے بعد ہائبرڈ بیج کی درآمد پر پابندی ہٹائی گئی، جبکہ حکومت نے جامع فوڈ اور ویٹ پالیسی بھی تشکیل دی ہے۔
عاشق کرمانی نے بتایا کہ کسانوں کو پہلی بار 6 ارب روپے مالیت کا باردانہ مفت فراہم کیا جا رہا ہے جس کی تقسیم شروع ہو چکی ہے۔ کسان کارڈ ہولڈرز کو ترجیح دی جا رہی ہے اور رجسٹرڈ کسان اپنے قریبی سینٹر سے ایک ایکڑ پر تقریباً 25 من باردانہ حاصل کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ باردانہ کی تقسیم مکمل طور پر شفاف طریقے سے ہو رہی ہے اور کسی قسم کی سفارش قابل قبول نہیں ہوگی، جبکہ نجی شعبے کو بھی گندم خریداری کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ 3500 روپے فی من کے حساب سے خریداری کرے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ سیلاب کے دوران متاثرہ کسانوں کو 20 ہزار روپے فی ایکڑ امداد دی گئی جبکہ مجموعی طور پر 20 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔ ایک ہزار ٹریکٹرز بھی مفت فراہم کیے گئے ہیں تاکہ کاشتکاروں کی مدد کی جا سکے۔












