ایران نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد بھی پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، اگرچہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ اتوار کو ایرانی وفد کی تہران واپسی کے بعد سے پاکستان کے ذریعے متعدد پیغامات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ایک پاکستانی وفد کی آمد بھی متوقع ہے، جو اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کا تسلسل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ نہیں، مذاکرات چاہتا ہے: صدر پزشکیان کا دوٹوک مؤقف
اسماعیل بقائی نے کہا کہ یورینیم افزودگی کا ایران کا حق ناقابل تردید ہے، تاہم اس کی سطح اور نوعیت قابلِ مذاکرہ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق دباؤ یا جنگ کے ذریعے چھینا نہیں جاسکتا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات آئندہ 2 دن میں دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں اور پاکستان کو اس حوالے سے ایک اہم مقام قرار دیا جارہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دوبارہ بات چیت کا امکان زیادہ ہے، اور اس کی ایک وجہ پاکستان کا مؤثر کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملات سست روی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم سفارتی عمل جاری ہے، جبکہ ایک اور مرحلہ یورپ میں ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کو یورینیئم کی افزودگی سے روکنا سیاسی فیصلہ ہوگا، آئی اے ای اے چیف
ادھر ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے۔
NEW: President Trump says the war with Iran is "close to over."
Full interview airs on @MorningsMaria on Fox Business at 6 a.m. pic.twitter.com/7YqjbHW3Fy
— Fox News (@FoxNews) April 15, 2026
واضح رہے کہ پاکستان نے 12 اور 13 اپریل کو اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کی، جو 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کا اہم ترین رابطہ تھا۔
تقریباً 21 گھنٹے جاری رہنے والے ان مذاکرات میں کوئی حتمی پیشرفت نہ ہو سکی، تاہم دونوں فریقین نے سفارتی چینل کھلا رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بتایا کہ تنازع کے حل کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں اور جنگ بندی تاحال برقرار ہے، تاہم کچھ معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، جے ڈی وینس، وٹکاف اور جیرڈ کشنر حصہ لیں گے، سی این این
8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی، جو کئی ہفتوں کے تنازع کے بعد طے پائی تھی، 22 اپریل تک برقرار رہنے کی توقع ہے، تاہم صورتحال بدستور نازک ہے۔ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف ممکنہ بحری ناکہ بندی کے اقدامات پر تہران نے خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔













