وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی اجازت کے بغیر میڈیکل طلبا کے داخلوں سے متعلق کیس پی ایم ڈی سی کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ معاملے کا جائزہ قانون اور متعلقہ ضوابط کے مطابق لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت: صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کے لیے درخواست دائر
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں عدالت نے ریمارکس دیے کہ 60 فیصد سے کم نمبرز والے طلبا کو میڈیکل میں داخلے کیسے دیے گئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ صرف قانون اور ریگولیشنز کے مطابق فیصلہ کرے گی اور کسی قسم کی نرمی کا اختیار نہیں رکھتی۔

دورانِ سماعت طلبا کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مختلف میڈیکل کالجز نے ہائیکورٹ سے حکمِ امتناع حاصل کر کے داخلے دیے، جبکہ پی ایم ڈی سی کے وکیل نے کہا کہ ادارے کے پاس رولز میں نرمی کا اختیار موجود ہے اور عدالت چاہے تو معاملہ پی ایم ڈی سی کو بھجوا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شہر اقتدار میں 28ویں آئینی ترمیم کی چہ مگوئیاں، تھرتھلی مچ گئی
عدالت نے ہدایت دی کہ پی ایم ڈی سی تین ہفتوں کے اندر اس معاملے پر فیصلہ کرے، جبکہ طلبا کو کالجز کے خلاف ہرجانے کے دعوے دائر کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا۔ کیس کی مزید سماعت 13 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔













