امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ایک نیا آن لائن پورٹل شروع کرنے جا رہی ہے جس کے ذریعے کاروباری ادارے ان ٹیرف کی واپسی کے لیے درخواست دے سکیں گے جنہیں سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2026 چین کی برآمدات میں 22 فیصد اضافہ، امریکی ٹیرف کے باوجود تجارت میں بڑی بحالی
اس اقدام کا مقصد متاثرہ کمپنیوں کو وہ رقوم واپس دلانا ہے جو مجموعی طور پر تقریباً 175 ارب ڈالر تک پہنچتی ہیں۔
یہ پیشرفت فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ کے اُس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے ہنگامی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ انتظامیہ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کی جانب سے جاری رہنما ہدایات کے مطابق یہ نیا نظام آئی ای ای پی اے کے تحت ٹیرف ریفنڈ کے دعوؤں کو ایک الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے جمع کرانے میں مدد دے گا، تاکہ قانونی فیصلے کے مطابق درست درخواستوں پر کارروائی کی جا سکے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل آسان نہیں ہوگا۔ کاروباری اداروں کو خود آگے بڑھ کر درخواستیں جمع کرانا ہوں گی جبکہ ریفنڈ صرف اُن ٹیرف پر مل سکے گا جو ابھی تک فائنل نہیں ہوئے یا گزشتہ 80 دنوں کے اندر کلیئر ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 37 فیصد متنازع رقوم ایک پیچیدہ قانونی صورتحال میں رہیں گی جسے حل ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: 2026 چین کی برآمدات میں 22 فیصد اضافہ، امریکی ٹیرف کے باوجود تجارت میں بڑی بحالی
سی بی پی کے مطابق منظور شدہ درخواستوں کی ادائیگی 60 سے 90 دن کے اندر کی جا سکتی ہے تاہم دستاویزات میں معمولی غلطی بھی تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اکثر کسٹمز بروکرز غلط ٹیرف کوڈز کے استعمال جیسے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔
اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ نظام مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو سکے گا اور بہت سے کاروباری اداروں کے لیے رقوم کی واپسی کا عمل طویل اور مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے کچھ مالیاتی ادارے اور ہیج فنڈز ان ریفنڈ کلیمز کو کاروباری کمپنیوں سے خریدنے میں بھی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی ٹیرف سے بھارتی برآمدات کو دھچکا، نئی دہلی کا ریلیف پیکج کا اعلان
کمپنی ’لرننگ ریسورسز‘ کے سی ای او رِک وولڈن برگ کے مطابق ان کی کمپنی کے دعوے تقریباً 12 ملین ڈالر تک کے ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ فوری طور پر درخواست دیں گے لیکن حکومت کو چاہیے تھا کہ متاثرہ کمپنیوں کو خودکار طریقے سے رقم واپس کرتی، بجائے اس کے کہ انہیں پورٹل کے ذریعے درخواست دینے کا عمل اپنانا پڑے۔













