عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے بھارت میں ڈوپنگ کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے ممنوعہ ادویات کی پیداوار اور سپلائی نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائیوں پر زور دیا ہے، جبکہ ماہرین نے اسے ملک کے عالمی کھیلوں کے عزائم کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
عالمی اینٹی ڈوپنگ ادارے ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی(واڈا) کے سربراہ ویٹولڈ بانکا نے کہا ہے کہ بھارت میں ڈوپنگ ایک ’سنگین مسئلہ‘ بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے کارکردگی بڑھانے والی ممنوعہ ادویات (PEDs) کی پیداوار کے خلاف کریک ڈاؤن ناگزیر ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ’واڈا‘ کی قیادت نئی دہلی میں موجود ہے جہاں وہ قومی قانون نافذ کرنے والے اداروں، خصوصاً سائبر کرائم یونٹس کے ساتھ تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ کھیلوں کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے شین وارن کے کمرے سے طاقت کی ممنوعہ ادویات ملی تھیں، نئی رپورٹ میں انکشاف
ویٹولڈ بانکا نے کہا کہ بھارت دنیا میں ممنوعہ ادویات بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے، اسی لیے اس غیر قانونی صنعت کے خلاف کارروائی نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق ’واڈا‘ بھارتی تحقیقاتی ادارے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ساتھ مل کر ان نیٹ ورکس کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے جو ان ممنوعہ ادویات کی سپلائی چین چلاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر اس غیر قانونی مارکیٹ کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ معاشرے کی صحت کا بھی تحفظ کیا جا سکے۔‘
واڈا نے 2022 سے اپنے عالمی انٹیلی جنس و تحقیقات نیٹ ورک کے ذریعے ڈوپنگ کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔ انٹرپول کے تعاون سے جاری ’آپریشن اپ اسٹریم‘ کے تحت دنیا بھر میں 250 چھاپے مارے گئے، 88 غیر قانونی لیبارٹریاں ختم کی گئیں اور تقریباً 90 ٹن ممنوعہ ادویات ضبط کی گئیں۔
واڈا کے تحقیقاتی شعبے کے سربراہ گنٹر ینگَر کا کہنا تھا کہ ڈوپنگ کے خلاف جنگ میں صرف کھلاڑیوں کی جانچ پر انحصار کافی نہیں، بلکہ اب توجہ سپلائرز، کوچز اور ڈاکٹروں جیسے عناصر پر مرکوز کرنا ہوگی جو اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ 25 برسوں میں ڈوپنگ کے خلاف زیادہ تر حکمت عملی ٹیسٹنگ پر رہی، لیکن جرائم پیشہ نیٹ ورکس تیزی سے خود کو ڈھال لیتے ہیں، اس لیے اب ’ٹاپ ڈاؤن‘ حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے بدنام زمانہ اعزاز، بھارت تیسرے سال متواتر عالمی ڈوپنگ میں سر فہرست
دوسری جانب واڈا کی رپورٹ کے مطابق بھارت نہ صرف ممنوعہ ادویات کی پیداوار میں سرفہرست ہے بلکہ مسلسل 3 برس سے کھیلوں میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کے حوالے سے بھی عالمی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا ہے۔ 2024 میں بھارتی نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے 7113 نمونوں کی جانچ کی جن میں سے 260 مثبت آئے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بھارت کی اولمپکس کی میزبانی کے عزائم کے لیے دھچکا ہو سکتی ہے، خصوصاً جب وہ 2030 کے کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے اور 2036 اولمپکس کی میزبانی کا خواہاں ہے۔
تاہم ویٹولڈ بانکا کا کہنا ہے کہ مثبت ٹیسٹوں کی تعداد کسی ملک کی بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی کی اہلیت پر اثرانداز نہیں ہوتی، بلکہ اصل اہمیت قانونی اور ادارہ جاتی نظام کی کارکردگی کو حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مثبت کیسز میں غیر معمولی کمی واقع ہو تو یہ اس بات کی علامت بھی ہو سکتی ہے کہ متعلقہ ادارہ مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا۔














