ایران امریکا جنگ رکوانے کے لیے پاکستان کے 3 بڑوں نے کتنے ہزار کلومیٹر سفر کیا؟

جمعہ 17 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران کی جانب سے آج آبنائے ہرمز کھولے جانے کے اعلان کے بعد خطے میں پاکستان کی سفارتی کوششوں سے قیام امن کی راہ ہموار ہوتی نظر آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان قابل اعتماد اور غیر جانبدار ثالث، مذاکرات بھی یہیں پر ہوں گے، ایرانی سفیر

28  فروری کو شروع ہونے والے اسرائیل امریکا کے ایران پر حملوں کے بعد پاکستان نے اپنی جنگ بندی کوششوں کے لیے سفارتی سرگرمیوں کو بہت زیادہ بڑھایا۔ اس عرصے میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے مختلف ممالک کے دوروں کے دوران 69692 کلومیٹر سفر طے کیا۔

غیر ملکی دوروں کے علاوہ پاکستان میں غیر ملکی وفود کی آمد اور مذکورہ تینوں رہنماؤں کے ٹیلی فونک رابطے بھی مسلسل جاری رہے جس کے بعد 7 اور 8 اپریل کی درمیانی شب امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتے کی عارضی جنگ بندی ہوئی۔ جس کے بعد 12 اپریل کو اِسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی اعلی سطحی وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے جو اُس وقت تو بے نتیجہ رہے لیکن اب پاکستان کی کوششیں رنگ دکھا رہی ہیں جس کا اعتراف پوری دنیا کر رہی ہے۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بیک گراؤنڈ

7 اکتوبر 2023 کے بعد جب اسرائیل نے غزہ میں مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کیے تو پاکستان نے قیامِ امن کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کا آغاز کر دیا تھا لیکن مئی 2025 پاک بھارت فوجی کشیدگی میں پاکستان کی بے مثال کامیابی کے بعد پاکستان کو دنیا بھر میں اور خاص طور پر امریکا کے ساتھ جو سفارتی لیوریج ملی پاکستان نے اس کو غزہ میں قیام امن کے لیے بھرپور استعمال کیا۔ ساتھ ہی ساتھ جون 2025 اسرائیل اور ایران جنگ بندی اور اُس کے بعد 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والے امریکا اسرائیل اور ایران جنگ میں پاکستان نے اپنی سفارتی کوششوں کا جس طریقے سے لوہا منوایا دنیا اُس کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔

اس سال 22 جنوری کو سوئٹزرلینڈ کے شہر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر کا اعلان کیا جس میں پاکستان نے شمولیت کی اور اس کے بعد غزہ پیس بورڈ کے رُکن ممالک کا پہلا اجلاس 19 فروری کو واشنگٹن میں ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی بطور رُکن ملک نمائندگی کی۔

مزید پڑھیے: انطالیہ ڈپلومیسی فورم: وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، توجہ کا مرکز بن گئے

لیکن ذیل میں ہم نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کے اُن کے دوروں کی تفصیلات اکٹھی کی ہیں جو اُنہوں نے حالیہ ایران اسرائیل جنگ رکوانے کے لیے کیے۔

امن کوششوں کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے سفر کی طوالت

اس وقت وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اناطولیہ فورم میں شرکت کے لیے ترکیہ میں موجود ہیں جہاں وہ مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

اس دورے سے قبل وہ قطر اور اس سے پہلے سعودی عرب کے دورے پر گئے۔

مزید پڑھیں: جنگ کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران میں دبنگ انٹری

پاکستان اور ریاض کے درمیان 4216 کلومیٹر فاصلہ جبکہ ریاض اور دوحہ کے درمیان 582 کلومیڑ جبکہ دوحہ اور استنبول کا درمیان فاصلہ 3561 کلومیٹر ہے۔ استنبول اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ 5209 کلومیٹر ہے۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اس 3 ملکی دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے جنگ بندی اور قیام امن کی کوششوں کے لیے 13568 کلومیٹر کا سفر کیا ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر 12 مارچ کو سعودی عرب کا دورہ کیا جس میں خطّے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اُس سفر کی طوالت 10074 کلومیٹر تھی۔

مجموعی طور پر وزیراعظم شہباز شریف نے قیام امن کی کوششوں کے لیے 23642 کلومیٹر کا سفر طے کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ کے بیرون ملک دوروں کی طوالت

نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار اس وقت وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ 3 ملکی دوروں پر ہیں اور اس طرح سے وہ اسلام آباد واپسی تک 13568 کلومیٹر کا سفر طے کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان، اس کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا شکرگزار ہوں، دونوں زبردست شخصیات ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

علاوہ ازیں 29 مارچ کو اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ قیامِ امن کے لیے خصوصی اجلاس کے بعد اُنہوں نے 31 مارچ کو بیجنگ کا دورہ کیا جس کے بعد پاکستان اور چین نے مل کر ایران اسرائیل جنگ بندی کے لیے 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا۔ ان کے اس سفر کی طوالت 7762 کلومیٹر تھی۔ تو مجموعی طور پر قیام امن کوششوں کے لیے اُنہوں نے 21330 کلومیٹر کا سفر طے کیا۔

چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کے دوروں کی طوالت

چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر اس وقت ایران میں امریکا ایران جنگ بندی کے سلسلے میں بات چیت کے لیے موجود ہیں۔ قیامِ امن کے لیے وہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان 6214 کلومیٹر کا سفر طے کریں گے۔

اس سے قبل 7 مارچ کو وہ سعودی عرب کے دورے پر گئے جہاں اُنہوں نے ریاض میں سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان السعود سے ملاقات کی اور خطے کی کشیدہ صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔ اُس سفر کے دوران اُن کے سفر کی طوالت 8432 کلومیٹر رہی۔

اس کے علاوہ 12 مارچ کو وہ سعودی عرب کے دورے کے دوران بھی وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ جدہ میں تھے۔ اسلام آباد اور جدہ کا درمیانی فاصلہ 5037 کلومیٹر جبکہ مجموعی فاصلہ 10074 کلومیٹر ہے۔

مزید پڑھیں: انطالیہ فورم: اسحاق ڈار اور شمالی قبرص کے وزیر خارجہ کی اہم ملاقات

قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے مجموعی طور پر 24720 کلومیٹر کا سفر طے کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آنگ سان سو چی کی سزا میں کمی، میانمار میں عام معافی کا اعلان

امریکا ایران مذاکرات میں ثالثی پاکستان کے لیے قابل فخر، دونوں ممالک کے درمیان چند نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے، اسحاق ڈار

امریکا ایران مذاکرات کا فائنل راؤنڈ، اسلام آباد ایک بار پھر شاندار میزبانی کے لیے تیار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلام آباد آمد متوقع، عوام کیا کہتے ہیں؟

وزیراعظم سے ترک صدر اور امیر قطر کی ملاقات، خطے میں امن کے لیے قریبی روابط پر اتفاق

ویڈیو

امریکا ایران مذاکرات کا فائنل راؤنڈ، اسلام آباد ایک بار پھر شاندار میزبانی کے لیے تیار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلام آباد آمد متوقع، عوام کیا کہتے ہیں؟

جنگ کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران میں دبنگ انٹری

کالم / تجزیہ

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟