مختلف ممالک اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے پاکستان کے سابق سفیر علی سرور نقوی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی مدّت ختم ہونے سے پہلے امریکا اور ایران مذاکرات کی میز پر آ جائیں گے کیونکہ دونوں فریقین کی جانب سے ایسے ہی اشارے ملے ہیں۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں ہم پوری کوشش کررہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا جو دورہ کیا، وہ بھی اِنہی کاوشوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان، اس کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا شکرگزار ہوں، دونوں زبردست شخصیات ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے کہاکہ فیصلہ تو امریکی صدر نے کرنا ہے لیکن صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی مزید بات چیت کے اشارے ہی آ رہے ہیں۔ امریکا اور ایران دونوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پاکستان ہی میں مذاکرات کریں گے کیونکہ ایران کو پتا ہے کہ ویانا میں اسے دھوکہ دیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ 28 فروری کو جب ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان کو محسوس ہوا کہ یہ بہت بڑا بحران اور اِس خطے کے لیے مضر ہے، جبکہ پاکستان کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ہوگا تو پاکستان نے سمجھا کہ جس حد تک ہم اس میں بہتری لا سکتے ہیں وہ ہم کریں، اس وقت سے ہم نے اس مسئلے کا سفارتی حل نکالنے کی ٹھان لی۔
پاکستان کی کوشش سے جنگ بندی اور مذاکرات شروع ہوئے
سفارتکار علی سرور نقوی نے کہاکہ پہلے جب جنگ ہو رہی تھی اور میزائل چل رہے تھی تو جنگ بندی ہوئی جو بہت اہم ہے اور یہ پاکستان کی کوششوں سے ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ دوسری اہم بات یہ تھی کہ پاکستان ایران اور امریکا کو 47 سال کے بعد مذاکرات کی میز پر لے آیا جو ایک اور انتہائی اہم بات تھی۔ امریکا اور ایران کے بہت اعلیٰ سطحی وفود پاکستان آئے اور دونوں نے مذاکرات کیے، یہ بہت اہم کام ہے جو پاکستان نے کیا۔
اب تو ریپبلیکن سینیٹرز بھی ٹرمپ پر تنقید کررہے ہیں
علی سرور نقوی نے کہاکہ امریکا میں صدر ٹرمپ کے اِس جنگ میں جانے کے خلاف عوامی دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔ دوسرا اپوزیشن جماعت اور کانگریس کی جانب سے بھی اُنہیں دباؤ کا سامنا ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ امریکا میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں بہت اِضافہ ہوگیا ہے۔ اب تو ریپبلیکن سینیٹرز بھی ٹرمپ پر تنقید کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ 1969 میں جب امریکا اور ویت نام جنگ عروج پر تھی تو اپوزیشن کی جانب سے اتنا دباؤ آیا کہ امریکا کو اس جنگ سے نکلنا پڑا۔ اندرونی دباؤ بہت کارگر ہوتا ہے اور ابھی بھی اندرونی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اسرائیلی لابی بہت طاقتور ہے
کیا اِس امن کے معاہدے کے بعد امریکا اسرائیل کے لیے مستقبل میں اپنی حمایت جاری رکھ پائے گا؟ اس سوال کے جواب میں علی سرور نقوی نے کہاکہ اسرائیل کا امریکا میں بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا امریکا اس امن معاہدے کے بعد اسرائیل کی حمایت ترک کر دے گا۔
انہوں نے کہاکہ امریکی سیاست اور میڈیا میں اسرائیل کا بہت زیادہ نفوذ ہے۔ وہاں پر امریکا اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (ایپیک) بہت تگڑی تنظیم ہے۔ کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ ایپیک کے خلاف جائیں۔ یہاں تک کے کئی سینیٹرز ایپیک کے خلاف بات کرنے کی وجہ سے نقصان سے دوچار ہوئے اور ایک سینیٹر پرسی اپنی سیٹ گنوا بیٹھا تھا۔
انہوں نے کہاکہ یہاں کچھ کہا نہیں جا سکتا جیسا کہ نیویارک کا موجودہ میئر ظہران ممدانی، اس کو یہودیوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔
پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے
دُنیا بھر میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے امیج کے بارے میں بات کرتے ہوئے علی سرور نقوی نے کہاکہ مجھے پاکستان کا مستقبل بہت روشن نظر آ رہا ہے اُس کی وجہ ہے کہ پاکستان بہت سالوں تک تعصبات کا شکار رہا ہے جس کی ایک اہم وجہ بھارت تھا، بھارت ہمارے امیج کو خراب کرتا رہا۔ ہمیں اتنے سال اگنور کیا گیا اور ہماری اصل حقیقت کو دنیا نے نہیں پہچانا جو اب پہچانی جا رہی ہے۔
پاکستان اور ایران لبنان میں جنگ بندی کے لیے امریکا پر زور دیں گے
کیا لبنان کی جنگ بندی کے معاملے پر ڈائیلاگ رُکے ہوئے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ایران کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، یہ جو بھی بات کرتے ہیں وہ امریکا کے ذریعے کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کا خاتمہ چاہتا ہے جو وہ کر نہیں سکتا۔ لبنان ایک کمزور ملک ہے جس پر اسرائیل بم برساتا رہتا ہے۔ ہمارے لوگ امریکا پر زور دیں گے کہ وہ لبنان میں مظالم بند کرائے۔
مزید پڑھیں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا متوقع دورہ پاکستان، اب تک کن کن امریکی صدرو نے پاکستان کے دورے کیے؟
انہوں نے مزید کہاکہ دوسرا جو آبنائے ہزمز کا معاملہ ہے اس پر بیٹھ کر بات چیت کریں گے تو معاملہ حل ہو جائے گا اور جوہری پروگرام پر بھی بات چیت کے ذریعے مسائل حل ہو جائیں گے۔
چین پسِ پردہ اپنا کردار ادا کرتا ہے
ان مذاکرات میں چین کا کردار کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں علی سرور نقوی نے کہاکہ چین اس طرح کے معاملات میں آگے بڑھ کر حصہ نہیں لیتا لیکن وہ پسِ پردہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کررہا ہے۔













