امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی جوہری اور خلائی پروگراموں سے وابستہ سائنسدانوں کی پراسرار اموات اور گمشدگیوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 2023 سے اب تک کم از کم 10 ماہرین ہلاک یا لاپتا ہو چکے ہیں، جس کے بعد مختلف قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس معاملے پر اجلاس سے نکلے ہیں اور یہ نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے یہ واقعات اتفاقی ہوں، تاہم آئندہ ڈیڑھ ہفتے میں حقیقت سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: جیفرے ایپسٹین کے سائنسدانوں سے کس نوعیت کے تعلقات تھے؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات
رپورٹس کے مطابق لاپتا ہونے والوں میں اسٹیون گارشیا شامل ہیں، جو اگست 2025 میں البوکرکی میں اپنے گھر سے غائب ہوئے۔ وہ موبائل فون، بٹوہ اور چابیاں گھر چھوڑ گئے تھے۔
اسی طرح سابق میجر جنرل ولیم میک کاسلینڈ فروری 2026 میں نیو میکسیکو سے لاپتا ہوئے۔ ان کی اہلیہ کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں تلاش کیا جائے۔
لاس الاموس نیشنل لیبارٹری سے وابستہ سابق ملازم انتھونی شاویز اور انتظامی افسر میلیسا کاسیاس بھی 2025 میں اپنے گھروں سے غائب ہوئے۔
مونیکا جیسنٹو ریزا، جو ناسا جیٹ پروپلشن لیبارٹری میں ڈائریکٹر تھیں، جون 2025 میں کیلیفورنیا میں ہائیکنگ کے دوران لاپتا ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: شی جن پنگ آبنائے ہرمز کھلنے پر بہت خوش، چین میں ملاقات تاریخی ہو سکتی ہے، صدر ٹرمپ
دیگر واقعات میں نونو لوریرو دسمبر 2025 میں اپنے گھر میں گولی مار کر قتل کر دیے گئے، جبکہ کارل گرل مائر فروری 2026 میں اپنے گھر کے باہر فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے اب تک ان تمام واقعات کے درمیان کسی باقاعدہ تعلق کی تصدیق نہیں کی، تاہم سابق ایف بی آئی حکام نے کہا ہے کہ حساس ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد کے یہ واقعات توجہ طلب ہیں۔














