ایران نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکا پر ’سمندری قزاقی‘ کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مکمل معاہدے تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
🚨 BREAKING
IRAN MILITARY COMMAND SAYS THE STRAIT OF HORMUZ HAS BEEN CLOSED AGAIN OVER THE U.S. BLOCKADE.
THIS IS A DIRECT ESCALATION AFTER THE BRIEF REOPENING.
THIS DOESN’T LOOK GOOD FOR MARKETS 👀 pic.twitter.com/WdIqI4E1Ol
— Wimar.X (@DefiWimar) April 18, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق الجزیرہ نے اپنی لائیو کوریج میں بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ “پہلی حالت” میں آ گیا ہے، جس کی وجہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر جاری ناکہ بندی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ’سمندری قزاقی‘ قرار دے رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش یا اس پر کنٹرول کا فیصلہ خطے کی بدلتی صورتحال اور امریکی اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی یہ بیان دے چکے تھے کہ لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں یہ اہم آبی گزرگاہ تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھول دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مستقل بنیادوں پر آبنائے ہرمز کھولنے پر چین مجھ سے خوش ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری معاملات مکمل ہونے تک بحری ناکہ بندی ’مکمل قوت کے ساتھ‘ جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کسی بھی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دے گا جو اس کی سکیورٹی یا مفادات کے خلاف ہو۔
ادھر لبنان میں جنگ بندی کے پہلے دن ہزاروں افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ ٹرمپ نے اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے باز رہنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز جو دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل ہے، کی صورتحال میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی عالمی توانائی منڈیوں اور معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ موجودہ پیشرفت نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھایا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔














