نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے کے لیے پرتشدد لندن منصوبے کا گواہ ہوں، صحافی اظہر جاوید

اتوار 19 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لندن میں مقیم پاکستان کے سینیئر صحافی اظہر جاوید نے کہا ہے کہ 2014 میں نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے کے لیے جو لندن پلان بنایا گیا تھا وہ اس کے گواہ ہیں اور ان کے سامنے پرتشدد کارروائیوں کے احکامات جاری کیے جاتے رہے۔

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب پاکستان میں نواز شریف کے خلاف مہم چلی تو انہوں نے اس وقت ایک دوسرے ٹی وی چینل میں کام شروع کیا تھا اور اس دوران چینل میں جو ڈیسک ملا وہاں اتفاق سے دوسرا ڈیسک ڈاکٹر طاہرالقادری کے ایک خاص آدمی کا تھا۔

مزید پڑھیں: 2017 میں ترقی کرتا پاکستان سازشوں کے باعث تباہی سے دوچار ہوا، نواز شریف

ان کے مطابق وہاں رہائش کے وقت انہوں نے دیکھا کہ وہ شخص طاہر القادری اور پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے کچھ لوگوں کے ساتھ رابطہ کاری میں مصروف تھا اور نواز شریف حکومت گرانے کے لیے باقاعدہ پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے بارے میں پیغام رسانی کرتا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر نواز شریف کو ہٹانا چاہتے تھے کیونکہ نواز شریف ان کی بات نہیں سنتے تھے اور نہ مانتے تھے۔ جبکہ نواز شریف ایک جمہوری وزیراعظم تھے اور اپنی طاقت کو آئین کے مطابق استعمال کرنا چاہتے تھے۔

اس بارے میں مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے اظہر جاوید نے کہاکہ لندن پلان میں عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری، چوہدری پرویز الٰہی اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ لوگ شامل تھے جو نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ چاہتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ 2011کے بعد ایک مخصوص سیاسی جماعت کی سرپرستی کی گئی اور اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

اظہر جاوید کے مطابق 2013 میں جب مسلم لیگ ن اکثریت کے ساتھ جیتی اور نواشریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو اس کے ساتھ ہی ان کے خلاف سازشوں کا آغاز ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت جو طاقتور ترین لوگ بیٹھے ہوئے تھے ان کے خیال میں نوازشریف کو ہٹانا ملکی بقا کے لیے ضروری تھا۔

اظہر جاوید نے کہاکہ اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے طاہر القادری کو خصوصی طور پر کینیڈا سے لندن لایا گیا اور اسٹیبلشمنٹ کی گود میں نئے نئے سوار ہوئے، جبکہ عمران خان اور پرویز الٰہی بھی اس منصوبے میں شامل تھے جب کہ کچھ صحافی اس سارے عمل میں رابطہ کاری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

نجم سیٹھی کو لندن پلان کے بارے میں ہم نے بتایا

انہوں نے بتایا کہ اس وقت میں اور ایک اور صحافی مرتضٰی علی شاہ نے نجم سیٹھی سے رابطہ کیا کیونکہ یہ خبر ہمارے چینلز نے نہیں چلانی تھی، ہم نے لندن کے علاقے ماربل آرچ میں جہاں بہت سارے کبوتر ہوتے ہیں وہاں ایک بینچ پر کبوتروں کے شور میں نجم سیٹھی کو یہ ساری تفصیلات بتائیں تاکہ کوئی اور سن نہ لے، پھر اس کے بعد نجم سیٹھی نے یہ اسٹوری لکھی۔

نواز شریف اللہ پر توکل کرتے ہیں

اظہر جاوید نے کہاکہ انہوں نے گزشتہ 2 دہائیوں میں نواز شریف کو انتہائی قریب سے دیکھا ہے، وہ کبھی پریشان نہیں ہوتے اور اللہ پر توکل کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جلا وطنی کے زمانے میں جب نواز شریف پہلی بار لندن پہنچے اور سلاؤ میں پہلا خطاب کیا تو لوگ کہتے تھے کہ وہ معاہدہ کرکے یا کمپرومائز کر کے آئے، لیکن انہوں نے اس خطاب میں بھی وہی لب و لہجہ اختیار کیا جو ان کا تب تھا جب انہیں حکومت سے نکالا گیا تھا۔

اظہر جاوید کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کے دور میں نواز شریف پر اتنا مشکل وقت تھا کہ ان کے دفتر میں کوئی نہیں جاتا تھا۔ ہمیں اس وقت بھی کہا جاتا تھا نوازشریف کو کور نہیں کرنا، اس کی رپورٹنگ نہیں کرنی، ان کی خبر نہیں چلنی چاہیے، یہ حقیقت ہے اور یہ ہمارے نیوز روم کی طرف سے ہمیں کہا جاتا تھا۔

انہوں نے مزید کہاکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آج اظہار رائے پر پابندی ہے، لیکن اس وقت کی پابندیوں کا تو ان لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہے کیا کیا پابندیاں عائد تھیں۔ پابندیاں یہ تھیں کہ آپ نے ان کی شکل نہیں دکھانی، نوازشریف کی تصویر نہیں آنی چاہیے۔

اظہر جاوید نے کہا کہ عمران خان بہت موقع پرست انسان ہیں اور انہیں آج بھی موقع ملے تو وہ فوراً سب سے پہلے چھلانگ لگا کر اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ جائیں گے۔

مریم نواز نے لندن واپسی پر نواز شریف سے پہلے گرفتاری دی

نواز شریف کے لندن سے واپس آکر گرفتاری دینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب نواز شریف کو اپنی علیل اہلیہ کلثوم نواز کے پاس رکنے کے لیے وقت نہیں دیا گیا تو انہوں نے واپس آنے کا فیصلہ کیا تو مریم نواز نے انہیں کہاکہ وہ انہیں اکیلا نہیں جانے دیں گی۔

انہوں نے کہاکہ جب نواز شریف کا جہاز پاکستان میں اترا اور رن وے پر سینکڑوں پولیس اہلکار موجود تھے تو مریم نواز نے آگے بڑھ کر نواز شریف سے پہلے گرفتاری دی۔

نواز شریف اگلے الیکشن کی تیاری کررہے ہیں

ایک سوال کے جواب میں اظہر جاوید نے بتایا کہ وہ گذشتہ جمعے کو نواز شریف سے مل کر آئے ہیں اور وہ اب پہلے سے زیادہ صحت مند اور ہشاش بشاش ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نواز شریف مکمل طور پر سیاسی کھیل کا حصہ ہیں، شہباز شریف ان سے ہر بات کی مشاورت کرتے ہیں۔ نواز شریف لمبی سوچ سوچتے ہیں اور وہ اس وقت اگلے انتخابات کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ نواز شریف اور شہباز شریف میں بہت محبت ہے اور شہباز شریف بہت تابعداری کرتے ہیں، نواز شریف آج اگر انہیں ایک طرف ہونے کا کہیں تو وہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کے خلاف کی گئی سازشوں نے پاکستان کی جڑوں کو ہلا دیا، شہباز شریف

اوورسیز پاکستانی جنرل عاصم منیر کے ساتھ ہیں

ایک اور سوال کے جواب میں اظہر جاوید نے کہاکہ پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں زر خرید لوگ رکھے ہوئے تھے جو نواز شریف کی رہائش گاہ اور دفتر کے باہر مظاہرے کرتے تھے لیکن اب مظاہروں کے لیے کوئی نہیں آتا۔

ان کا کہنا تھا کہ بالخصوص گذشتہ سال مئی میں جب پاکستان نے انڈیا کو شکست دی تو اس کے بعد سے اوورسیز پاکستانیوں کی اکثریت کو حقائق کا اندازہ ہو گیا ہے اور اب قریباً تمام اوورسیز پاکستانی پاک فوج اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ اب امریکا اور ایران میں ثالثی کے کردار کے بعد تو بیرون ملک مقیم ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہوگیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

معروف ریپر اینڈی روس کا ریاست پاکستان، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین

افغان کرکٹر راشد خان کا بھارت اور آسٹریلیا کی شہریت ٹھکرانے کا انکشاف

پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، غزہ سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

امریکا میں جنونی شخص کی فائرنگ، ایک ہی خاندان کے 8 بچے ہلاک

کراچی: ایرانی کرنسی کی غیرقانونی خرید و فروخت میں ملوث ملزم گرفتار، ڈیڑھ ارب ریال برآمد

ویڈیو

معروف ریپر اینڈی روس کا ریاست پاکستان، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین

کیا امریکا اور ایران کے درمیان ڈیل ہوگی یا خطہ ایک بار پھر جنگ کی طرف جائےگا؟

مذاکرات کا دوسرا دور: دارالحکومت میں سخت سیکیورٹی انتظامات، میرے نمائندے اسلام آباد جارہے ہیں، صدر ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان مسلم دنیا کا قائد اور اقوام عالم میں قابل اعتبار ثالث

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟