بنگلہ دیش کے ضلع کاکس بازار میں ایندھن کی شدید قلت اور بار بار بجلی کی بندش نے زرعی نظام کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث ہزاروں ٹیوب ویلز بند ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال نے جاری بورورائس (دھان) کی فصل کے مستقبل پر سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش نے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہاز کی واپسی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردیں
کاشتکاروں کے مطابق ڈیزل کی کمی اور بجلی کی غیر یقینی فراہمی کے باعث نہروں اور کھیتوں کی آبپاشی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ کئی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث کھیت خشک ہونے لگے ہیں جبکہ پانی کی کمی سے دھان کی پنیری سرخی مائل ہو رہی ہے۔
محکمہ زرعی توسیع کے مطابق کاکس بازار میں مجموعی طور پر 7 ہزار 146 ٹیوب ویلز موجود ہیں، جن میں زیادہ تر ڈیزل سے چلتے ہیں جبکہ کچھ بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم اس وقت 4 ہزار 200 سے زائد پمپ ایندھن اور بجلی کی کمی کے باعث بند پڑے ہیں۔

حکام کے مطابق اس صورتحال سے تقریباً 25 ہزار ہیکٹر زرعی زمین کی آبپاشی متاثر ہوئی ہے۔ رواں سیزن میں ضلع میں 55 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے پر بورورائس کی کاشت کی گئی ہے، جس کا ہدف 2 لاکھ 35 ہزار میٹرک ٹن چاول پیدا کرنا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے زمین کے کرائے، کھاد، مزدوری اور آبپاشی پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے، اور اگر آئندہ دو ہفتوں میں پانی کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو فصل مکمل طور پر تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
محکمہ زراعت کے عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایندھن کی قلت جاری رہی تو ضلع اپنے چاول کی پیداوار کے اہداف حاصل نہیں کر سکے گا۔

محکمہ زرعی توسیع کے کاکس بازار دفتر کے اسسٹنٹ زرعی افسر کے مطابق گزشتہ 20 سے 25 دنوں سے ضلع کو شدید ایندھن بحران کا سامنا ہے، جس کے باعث نصف سے زائد پمپ مکمل طور پر فعال نہیں رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ گہری ٹیوب ویلوں کو فی گھنٹہ تقریباً 5 لیٹر ڈیزل، لو لیفٹ پمپ کو 4 لیٹر اور شالو پمپ کو 2 لیٹر ڈیزل درکار ہوتا ہے، تاہم سپلائی متاثر ہونے سے آبپاشی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں آئندہ ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان
انہوں نے مزید کہا کہ بورورائس کی کاشت دسمبر میں شروع ہوئی تھی اور فصل مئی تا جون میں پکنے کی توقع ہے، لیکن موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پیداوار کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔














