روایتی ایندھن سے جان چھڑانا مشکل کیوں، کونسی لابی رکاوٹ ہے؟

پیر 20 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سنہ 2023 کے عالمی ماحولیاتی سربراہی اجلاس میں بین الاقوامی برادری نے فوسل فیولز (تیل، گیس اور کوئلہ) سے بتدریج دور ہونے پر اتفاق کیا تھا جسے بعض ماہرین نے تیل کے دور کے خاتمے کی شروعات قرار دیا تھا تاہم اس کے بعد نمایاں پیشرفت نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا پاکستان کو ایندھن سبسڈی ختم، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کا مشورہ

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سائنسی ماہرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ عالمی حدت میں اضافہ بنیادی طور پر فوسل فیولز کے جلنے سے ہو رہا ہے لیکن اس سےاجتناب اب تک ممکن نہیں ہوا۔

اس کے باوجود دنیا آج بھی تیل پر گہری حد تک انحصار کرتی ہے۔ حالیہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں کی بندش نے عالمی توانائی اور معیشت کو ایک بار پھر واضح کر دیا کہ ’کالا سونا‘ یعنی تیل اب بھی عالمی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین کے مطابق فوسل فیولز سے مکمل جان چھڑانا فوری طور پر ممکن نہیں۔

معیشت اور توانائی کا انحصار

ماہرین کے مطابق عالمی مالیاتی نظام تیل اور گیس سے گہرا جڑا ہوا ہے۔ بعض ممالک جیسے عراق، کویت اور سعودی عرب کی معیشت مکمل طور پر تیل پر منحصر ہے جبکہ دیگر ممالک بھی برآمدات اور توانائی کی آمدن کے باعث اس شعبے سے جڑے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیے: توانائی کے ممکنہ مسائل: حکومت سندھ کا ایندھن و گاڑیوں کے مؤثر استعمال کا اعلان

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اچانک فوسل فیولز کو بند کیا جائے تو یہ عالمی معیشت کے لیے بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے۔

سیاسی ارادہ اور لابنگ کا کردار

توانائی پالیسی کے ماہرین کے مطابق کچھ ممالک میں قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی تکنیکی طور پر ممکن ہے لیکن اصل رکاوٹ سیاسی ارادہ ہے۔ تیل اور گیس کی صنعت دنیا کی سب سے طاقتور لابی سمجھی جاتی ہے جو دہائیوں سے پالیسیوں پر اثر انداز ہو کر تبدیلی کو سست کرتی آ رہی ہے۔

عالمی پیشرفت کے باوجود چیلنجز

اس سب کے باوجود قابلِ تجدید توانائی میں ترقی جاری ہے۔ سنہ 2025 تک دنیا کی تقریباً نصف بجلی کی پیداوار قابل تجدید ذرائع سے ہو رہی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔

چین شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے میں عالمی لیڈر بن چکا ہے جبکہ پاکستان میں بھی شمسی توانائی 2020 کے بعد تیزی سے ایک اہم ذریعہ بن گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ قابل تجدید توانائی کی طرف سفر تیز ہو رہا ہے، لیکن معاشی مفادات، سیاسی دباؤ اور عالمی انحصار کے باعث فوسل فیولز سے مکمل چھٹکارا ابھی ایک طویل اور مشکل عمل ہے۔

روایتی ایندھن کا متبادل

روایتی ایندھن یا فوسل فیولز (تیل، گیس اور کوئلہ) کی متبادل قابل تجدید توانائی (رینیوایبل انرجی) وہ توانائی ہے جو قدرتی ذرائع سے حاصل کی جاتی ہے اور بار بار استعمال کے باوجود ختم نہیں ہوتی۔ اس میں سورج کی روشنی سے حاصل ہونے والی شمسی توانائی، ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی، پانی کے بہاؤ سے بننے والی پن بجلی اور نامیاتی مواد سے حاصل ہونے والی بایو انرجی شامل ہیں۔

یہ تمام ذرائع قدرتی طور پر مسلسل دوبارہ پیدا ہوتے رہتے ہیں اس لیے انہیں مستقبل کی توانائی کا محفوظ اور پائیدار حل سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے ذریعے وسیع تر آمدنی کیسے ممکن ہے؟

روایتی ایندھن کے برعکس قابل تجدید توانائی ماحول کے لیے نسبتاً صاف اور کم آلودگی پیدا کرنے والی ہوتی ہے۔ فوسل فیولز محدود ہیں اور وقت کے ساتھ ختم ہو سکتے ہیں جبکہ قابل تجدید توانائی نہ صرف طویل مدتی ضرورت پوری کرتی ہے بلکہ کاربن اخراج کم کرکے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو بھی کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں ممالک آہستہ آہستہ اس طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp