ایپسٹین اسکینڈل پر برطانوی وزیراعظم دباؤ میں، متاثرین سے معذرت کرلی

پیر 20 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے پیٹر مینڈلسن کی امریکا میں بطور سفیر تقرری پر جیفری ایپسٹین کے متاثرین سے معذرت کرلی ہے۔

یہ پیش رفت پیٹر مینڈلسن کے بدنام زمانہ شخصیت جیفری ایپسٹین سے قریبی تعلقات سامنے آنے کے بعد بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے پش منظر میں سامنے آئی ہے۔

اپنے خطاب کے دوران کیئر اسٹارمر نے کہا کہ یہ بات پہلے سے معلوم تھی کہ پیٹر مینڈلسن دراصل جیفری ایپسٹین کو جانتے تھے، لیکن اس تعلق کی گہرائی اور تاریکی سے کوئی واقف نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی کلیئرنس میں ناکام سفیر کی تعیناتی، برطانوی وزیرِاعظم مشکل میں

وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے دسمبر 2024 میں پیٹر مینڈلسن کو امریکا میں برطانوی سفیر مقرر کیا تھا، انہوں نے متاثرین کو مخاطب کرتے ہوئے مینڈلسن کی تقرری پر معذرت کا اظہار کیا۔

’آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس پر، اس پر کہ بااختیار افراد نے آپ کو مایوس کیا، اور اس پر کہ میں نے مینڈلسن کی باتوں پر یقین کیا اور ان کی تعیناتی کی۔‘

اسٹارمر نے گزشتہ برس ستمبر میں مینڈلسن کو برطرف کر دیا تھا، جب منظر عام پر آنیوالی میلز سے ظاہر ہوا کہ وہ 2008 میں امریکا میں کمسن افراد سے متعلق جنسی جرائم میں سزا یافتہ ایپسٹین کے ساتھ تعلق برقرار رکھے ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر اہم برطانوی سیاستدان پارٹی رکنیت سے مستعفی

تاہم اب امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ نئی دستاویزات کے بعد اس تقرری کی مخالفت مین دوبارہ دباؤ بڑھ گیا ہے، جن میں مینڈلسن اور ایپسٹین کے قریبی تعلقات کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

ان دستاویزات میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ پیٹر مینڈلسن نے مبینہ طور پر سرکاری دستاویزات ایپسٹین کو فراہم کیں، جبکہ جیفری ایپسٹین نے مینڈلسن یا ان کے اس وقت کے پارٹنر کو ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی رکھا۔

اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں پولیس تحقیقات کا سامنا کرنیوالے پیٹر مینڈلسن نے کہا ہے کہ انہیں کسی ادائیگی کی یاد نہیں اور انہوں نے دستاویزات لیک کرنے کے الزامات پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کے امریکا میں سفیر پیٹر مینڈلسن برطرف، وجہ کیا بنی؟

دوسری جانب اسٹارمر کو اس معاملے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ انہوں نے پہلے کہا تھا کہ وہ تقرری کے وقت حاصل کردہ جانچ پڑتال کی تفصیلات جاری کریں گے۔

تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی درخواست کے باعث وہ ایسا نہیں کر سکتے تاکہ تحقیقات متاثر نہ ہوں۔

سیاسی مخالفین اور خود ان کی جماعت کے بعض ارکان نے بھی اس معاملے کو ان کی فیصلہ سازی پر بڑا سوال قرار دیا ہے۔

مختلف سروے کے مطابق وزیر اعظم اسٹارمر پہلے ہی عوام میں غیر مقبول ہو رہے ہیں اور پارٹی کے اندر بھی ان کی پوزیشن کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد میں 5 روزہ سفرا کانفرنس، خارجہ پالیسی اور دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا

کویت کی علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کی تعریف

الارم گھڑی سے پہلے لوگ کیسے جاگتے تھے: کھڑکیاں کھٹکھٹانے والے ’نوکر اپرز‘ سے سحری میں جگانے والوں تک

امریکا کی جانب سے 450 سے زائد نایاب نوادرات کی پاکستان واپسی، اسلام آباد میوزیم میں باضابطہ تقریب

کیا صدر مملکت آصف زرداری کی چھٹی ہونے والی ہے؟

ویڈیو

کیا صدر مملکت آصف زرداری کی چھٹی ہونے والی ہے؟

پاکستان کی سفارتی محاذ پر کامیابیاں، پشاور کے شہری کیا رائے ظاہر کر رہے ہیں؟

عبدالستار ایدھی کا مجمسہ دہشتگردی کا شکار‘ مجمسہ ساز کی حکومت سے بحالی کی اپیل

کالم / تجزیہ

چپکے چپکے دل میں اترتا حسرتؔ

12 مئی والی ایک لاش بول پڑی

ایک تباہ کن جنگ: جو نہ ہو سکی