برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کو جمعہ کے روز ایک نئے تنازع کا سامنا کرنا پڑا، جب ان کے سیاسی مخالفین نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ تیز کر دیا۔
یہ مطالبہ اس انکشاف کے بعد سامنے آیا کہ امریکہ میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر مینڈلسن سیکیورٹی کلیئرنس میں ناکام ہونے کے باوجود اپنے عہدے پر تعینات کر دیے گئے تھے۔
حکومت نے جمعرات کو تصدیق کی کہ مینڈلسن سیکیورٹی جانچ میں ناکام رہے تھے، تاہم اس کے باوجود انہیں عہدہ سونپ دیا گیا۔
بعد ازاں وزیرِاعظم اسٹارمر نے یہ کہتے ہوئے انہیں برطرف کر دیا تھا کہ انہوں نے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کا دوٹوک مؤقف
حکومت کے مطابق وزیرِاعظم کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ دفترِ خارجہ کے حکام نے سیکیورٹی جانچ کی سفارش کو نظرانداز کر دیا تھا۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ ترین افسر اولی رابنز اسٹارمر کا اعتماد کھونے کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔
لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما ایڈ ڈیوی نے بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ان کا نہیں خیال کہ وزیرِاعظم اولی رابنز کو ہٹا کر اپنی ذمہ داری سے بچ سکتے ہیں، اصل ذمہ داری خود اسٹارمر پر عائد ہوتی ہے۔
‘ًشواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ اور عوام کو گمراہ کیا، جو قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہے، اسی لیے ہم ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔’
مزید پڑھیں: برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی فرانسیسی صدر کی نقل، عینک پہن کر حاضرین کو محظوظ کردیا
دوسری جانب اسٹارمر اس تقرری پر پہلے ہی معذرت کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے مینڈلسن پر’جھوٹ کا پلندہ’ باندھنے کا الزام عائد کیا اور وعدہ کیا کہ تقرری کے طریقہ کار سے متعلق دستاویزات جاری کی جائیں گی۔
سینیئر وزیر ڈیرن جونز نے کہا کہ وزیرِاعظم اس بات پر سخت برہم ہیں کہ انہیں سیکیورٹی کلیئرنس میں ناکامی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پیر کو پارلیمنٹ کو اس معاملے پر بریفنگ دی جائے گی۔ ان کے مطابق وزیرِاعظم نے پارلیمنٹ کو گمراہ نہیں کیا، تاہم اس سارے عمل میں خامیاں ضرور موجود تھیں۔
ادھر مینڈلسن کے خلاف پولیس تحقیقات جاری ہیں، جن میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری دستاویزات جیفری ایپسٹین کو فراہم کیں۔
مینڈلسن نے ان الزامات پر تاحال کوئی عوامی بیان نہیں دیا، جبکہ ان کے وکیل نے بھی سیکیورٹی جانچ کے عمل پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔













