برطانیہ میں مقیم فارماسسٹ کی بھارت حوالگی کیخلاف قانونی جنگ کا آغاز

پیر 20 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں مقیم بھارتی نژاد فارماسسٹ کو بھارت میں اپنی سابقہ بیوی کی والدہ کو آرسینک کے زہر سے ہلاک کرنے اور اس کے والد کو قتل کرانے کی کوشش کے الزامات کا سامنا ہے۔

اس ضمن میں ملزم اجیت کمار مپپاراپو نے پیر کے روز اپنی حوالگی کے خلاف قانونی جنگ کا آغاز کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں رہنما خالصتان تحریک کی پراسرار موت، سکھوں کو بھارت پر شبہ

45 سالہ اجیت کمار مپپاراپو پر الزام ہے کہ انہوں نے 2023 میں اپنی سابقہ بیوی سریشا متواراپو اور اس کے خاندان کو بار بار نشانہ بنایا، یہ سب اس وقت شروع ہوا جب خاتون نے طلاق کے لیے درخواست دائر کی۔

بھارتی استغاثہ کے مطابق مپپاراپو نے آرسینک ملی مرچ پاؤڈر اور نمک حیدرآباد میں متواراپو کے گھر بھجوانے کا انتظام کیا۔

جون 2023 میں جب خاندان کے افراد اس کے بھائی کی شادی کی تقریب میں جمع ہوئے تو انہوں نے یہی اشیا استعمال کیں، جس کے نتیجے میں سریشا کی والدہ، اوما مہیشوری، اگلے ماہ انتقال کر گئیں۔

مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم اجیت کمارنے سریشا کے والد ہنومنتھا راؤ کو قتل کرنے کی بھی کوشش کی، جس میں ایک جعلی ٹریفک حادثے سمیت کرائے کے قاتلوں کی خدمات حاصل کرنے اور انہیں مہلک انجیکشن لگوانے کی سازش رچائی گئی۔

مزید پڑھیں: برطانیہ: نابالغ لڑکیوں کو آن لائن ہراساں کرنے پر بھارتی طالبعلم گرفتار

تاہم مپپاراپو کے وکلا کا کہنا ہے کہ اس بات کے لیے خاطر خواہ شواہد موجود نہیں کہ آرسینک ان کے موکل نے فراہم کیا یا وہ کسی قتل کی سازش میں ملوث تھے۔

انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اگر انہیں بھارت کے حوالے کیا گیا تو انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کا تاریخی بھارتی ریسٹورنٹ 99 سال بعد بند ہونے کے قریب، بادشاہ چارلس سے مداخلت کی اپیل

وکلا نے اس سلسلے میں گزشتہ فروری کے ایک عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا گیا جس میں ایک تاجر کی بھارت حوالگی روکی گئی تھی۔

پیر کے روز مپپاراپو لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہوئے، جہاں وہ سرمئی رنگ کی قیدیوں کی مخصوص جیکٹ پہنے کٹہرے میں موجود تھے جبکہ ان کے خلاف مقدمے کی تفصیلات بیان کی گئیں۔

مزید پڑھیں: ‘اپنے ملک واپس چلی جاؤ،’ برطانیہ میں بھارتی خاتون کے ساتھ زیادتی اور نسل پرستی کا واقعہ

بھارتی استغاثہ کی نمائندگی کرنے والے وکیل جیمز لیوس نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ خاندان میں پائے جانے والے آرسینک کی فراہمی مبینہ طور پر مپپاراپو کی بہن کے ذریعے کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ افراد کے خون اور پیشاب میں آرسینک کی مقدار معمول سے 20 گنا زیادہ تھی۔

عدالت میں جاری سماعت اس ہفتے مکمل ہونے کا امکان ہے، جبکہ حتمی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا کہ آیا مپپاراپو کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے بھارت بھیجا جائے گا یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکا نے اپنا بحری بیڑا ’جارج بش‘ بحیرہ ہند میں اتار دیا

بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، 84 لاکھ ٹکا مالیت کی بھارتی ساڑیاں برآمد

سکھ رہنماؤں کو بھارتی دھمکیاں، سکھ فار جسٹس نے بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو لیک کردی

ویڈیو

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

خیبر پختونخوا: دہشتگردی کے واقعات میں کمی، پشاور کے شہری کیا کہتے ہیں؟

پہلگام حملہ: کیا یہ خود ساختہ منصوبہ تھا؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار