برطانیہ میں مقیم بھارتی نژاد فارماسسٹ کو بھارت میں اپنی سابقہ بیوی کی والدہ کو آرسینک کے زہر سے ہلاک کرنے اور اس کے والد کو قتل کرانے کی کوشش کے الزامات کا سامنا ہے۔
اس ضمن میں ملزم اجیت کمار مپپاراپو نے پیر کے روز اپنی حوالگی کے خلاف قانونی جنگ کا آغاز کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں رہنما خالصتان تحریک کی پراسرار موت، سکھوں کو بھارت پر شبہ
45 سالہ اجیت کمار مپپاراپو پر الزام ہے کہ انہوں نے 2023 میں اپنی سابقہ بیوی سریشا متواراپو اور اس کے خاندان کو بار بار نشانہ بنایا، یہ سب اس وقت شروع ہوا جب خاتون نے طلاق کے لیے درخواست دائر کی۔
بھارتی استغاثہ کے مطابق مپپاراپو نے آرسینک ملی مرچ پاؤڈر اور نمک حیدرآباد میں متواراپو کے گھر بھجوانے کا انتظام کیا۔
UK pharmacist fights Indian extradition for allegedly killing his ex-mother-in-law with arsenic https://t.co/X0JeFxTcxf
— The Straits Times (@straits_times) April 20, 2026
جون 2023 میں جب خاندان کے افراد اس کے بھائی کی شادی کی تقریب میں جمع ہوئے تو انہوں نے یہی اشیا استعمال کیں، جس کے نتیجے میں سریشا کی والدہ، اوما مہیشوری، اگلے ماہ انتقال کر گئیں۔
مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم اجیت کمارنے سریشا کے والد ہنومنتھا راؤ کو قتل کرنے کی بھی کوشش کی، جس میں ایک جعلی ٹریفک حادثے سمیت کرائے کے قاتلوں کی خدمات حاصل کرنے اور انہیں مہلک انجیکشن لگوانے کی سازش رچائی گئی۔
مزید پڑھیں: برطانیہ: نابالغ لڑکیوں کو آن لائن ہراساں کرنے پر بھارتی طالبعلم گرفتار
تاہم مپپاراپو کے وکلا کا کہنا ہے کہ اس بات کے لیے خاطر خواہ شواہد موجود نہیں کہ آرسینک ان کے موکل نے فراہم کیا یا وہ کسی قتل کی سازش میں ملوث تھے۔
انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اگر انہیں بھارت کے حوالے کیا گیا تو انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ کا تاریخی بھارتی ریسٹورنٹ 99 سال بعد بند ہونے کے قریب، بادشاہ چارلس سے مداخلت کی اپیل
وکلا نے اس سلسلے میں گزشتہ فروری کے ایک عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا گیا جس میں ایک تاجر کی بھارت حوالگی روکی گئی تھی۔
پیر کے روز مپپاراپو لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہوئے، جہاں وہ سرمئی رنگ کی قیدیوں کی مخصوص جیکٹ پہنے کٹہرے میں موجود تھے جبکہ ان کے خلاف مقدمے کی تفصیلات بیان کی گئیں۔
مزید پڑھیں: ‘اپنے ملک واپس چلی جاؤ،’ برطانیہ میں بھارتی خاتون کے ساتھ زیادتی اور نسل پرستی کا واقعہ
بھارتی استغاثہ کی نمائندگی کرنے والے وکیل جیمز لیوس نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ خاندان میں پائے جانے والے آرسینک کی فراہمی مبینہ طور پر مپپاراپو کی بہن کے ذریعے کی گئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ افراد کے خون اور پیشاب میں آرسینک کی مقدار معمول سے 20 گنا زیادہ تھی۔
عدالت میں جاری سماعت اس ہفتے مکمل ہونے کا امکان ہے، جبکہ حتمی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا کہ آیا مپپاراپو کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے بھارت بھیجا جائے گا یا نہیں۔














