بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کی ایک رپورٹ کے مطابق 2025 کے تباہ کن سیلاب کے باعث پاکستان میں تقریباً 33 لاکھ ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں حالیہ سیلاب، ہماری غلطیاں اور مستقبل کے تقاضے
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے آئی ایل او نے منگل کو بتایا کہ اس نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے 14 شدید متاثرہ اضلاع میں روزگار اور ذریعہ معاش کے نقصانات کا جائزہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق روزگار کے نقصانات کا بڑا بوجھ پنجاب کے 9 سیلاب زدہ اضلاع نے برداشت کیا جبکہ دیہی علاقوں میں تقریباً 78 فیصد روزگار متاثر ہوا۔ زرعی شعبہ سب سے زیادہ متاثر رہا جس کے بعد خدمات اور صنعت کے شعبے متاثر ہوئے۔
یہ جائزہ اقوام متحدہ، ایشیائی ترقیاتی بینک، یورپی یونین اور عالمی بینک کے تعاون سے ہونے والے سنہ 2025 کے سیلابی نقصانات کے ابتدائی تخمینے کے جائزے کا حصہ تھا جس میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے تکنیکی قیادت فراہم کی۔
آئی ایل او کے مطابق اگرچہ صوبائی سطح پر معاوضے اور امدادی اقدامات نے فوری ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دی، تاہم متاثرہ علاقوں میں روزگار اور آمدنی کے ذرائع کی بحالی کے لیے مزید جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔
ادارے نے بحالی کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کیں، جن میں کیش فار ورک پروگرامز، ہنر مندی کی تربیت اور رعایتی قرضوں کی فراہمی شامل ہے تاکہ متاثرہ خاندان دوبارہ چھوٹے پیمانے پر زرعی اور غیر زرعی سرگرمیاں شروع کر سکیں۔
وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل چوہدری سالک حسین نے کہا کہ سیلاب نے خاص طور پر دیہی علاقوں میں خود روزگار افراد، یومیہ اجرت کمانے والوں، چھوٹے کاشتکاروں اور کمزور طبقوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
مزید پڑھیے: تباہ کن بارشیں اور سیلاب، اقوام متحدہ کا پاکستان میں غذائی بحران اور مہنگائی کا انتباہ
انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے ہدفی روزگار پروگرامز اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی اور آمدنی کے ذرائع دوبارہ قائم کر سکیں۔
آئی ایل او کے پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر گیر ٹونسٹول نے اس بات پر زور دیا کہ بحالی کے عمل میں روزگار اور ذریعہ معاش کی بحالی کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب نے پہلے سے کمزور طبقات کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے، اس لیے بروقت اقدامات ضروری ہیں تاکہ باعزت روزگار، آمدنی کی بحالی اور موسمیاتی آفات کے مقابلے میں طویل المدتی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو ممکنہ بڑے سیلاب سے آگاہ کردیا
حکومت اور آئی ایل او نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر سیلاب متاثرین کی بحالی اور پائیدار روزگار کے فروغ کے لیے کام جاری رکھیں گے۔













