برطانیہ نے پہلی اسموک فری جنریشن کے قیام کی جانب اہم پیشرفت کرتے ہوئے کم عمر افراد کے لیے سگریٹ اور ویپ کے استعمال پر پابندی کا قانون منظور کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سگریٹ نوشی کے رجحان میں غیرمعمولی اضافہ، روزانہ کتنے بچے سگریٹ نوش بنتے ہیں؟
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی منظوری کے بعد یہ بل اب شاہی توثیق کا منتظر ہے، جس کے تحت 2009 کے بعد پیدا ہونے والے افراد کے لیے تمباکو مصنوعات خریدنا غیر قانونی ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ہر سال تقریباً 80,000 اموات سگریٹ نوشی کے باعث ہوتی ہیں، جبکہ دل کے امراض، فالج، ذیابیطس، دمہ اور دیگر خطرناک بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
نئے قانون کے تحت حکومت کو تمباکو، ویپنگ اور نکوٹین مصنوعات کی فروخت، ذائقوں اور پیکنگ سے متعلق مزید اختیارات بھی حاصل ہوں گے، جبکہ اسموک فری مقامات کے دائرہ کار کو بھی وسیع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’72 فیصد سیگریٹ نوش خواتین‘ میں نے تو 2 فیصد کو بھی نہیں دیکھا یہ کون سا پاکستان ہے؟
اس اقدام کے بعد برطانیہ ان چند ممالک میں شامل ہو جائے گا جہاں نسل در نسل تمباکو پر پابندی نافذ کی جارہی ہے۔














