امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن شیلا شیرفیلس میک کارمک نے بدعنوانی کے سنگین الزامات کے باعث ممکنہ اخراج سے چند لمحے قبل ہی استعفیٰ دے دیا۔
امریکی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس شیلا شیرفیلس میک کارمک نے منگل کو اس وقت اچانک استعفیٰ دے دیا جب ایوان کی اخلاقیاتی کمیٹی ان کے ممکنہ اخراج سے متعلق سفارش پر غور کرنے والی تھی۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کی اخلاقیاتی کمیٹی گزشتہ ماہ انہیں 25 اخلاقی خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دے چکی تھی۔ ان الزامات میں وفاقی امدادی فنڈز کی مبینہ چوری اور ان میں سے کچھ رقم کو اپنی سیاسی مہم کے لیے استعمال کرنا شامل ہے، تاہم انہوں نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ انتظامیہ نے انسداد بدعنوانی کے لیے نیشنل اینٹی فراڈ ڈویژن قائم کردیا
اپنے بیان میں، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا گیا، شیلا میک کارمک نے کہا کہ یہ کارروائی ’سیاسی انتقام‘ کے سوا کچھ نہیں اور وہ اپنے قانونی حقوق کی پامالی برداشت نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فوری طور پر 119ویں کانگریس کی رکنیت سے مستعفی ہو رہی ہیں تاکہ فلوریڈا کے اپنے حلقے کے عوام کے لیے جدوجہد جاری رکھ سکیں۔
یہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تیسرا واقعہ ہے جب کسی رکنِ کانگریس نے ممکنہ اخراج سے قبل استعفیٰ دیا۔ اس سے قبل ایرک سوالویل اور ٹونی گونزالیز بھی جنسی بدسلوکی کے الزامات کے تناظر میں ممکنہ ووٹنگ سے پہلے مستعفی ہو چکے ہیں۔
سیاسی دباؤ اور قانونی پیچیدگیاں
کانگریس سے اخراج کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جو ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ تاہم ڈیموکریٹ قیادت، بشمول حکیم جیفریز، پر شدید دباؤ تھا کہ وہ بدعنوانی کے الزامات کے پیش نظر انہیں عہدے سے ہٹائیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وسط مدتی انتخابات قریب ہیں۔
شیلا میک کارمک کے استعفے کے بعد ڈیموکریٹ اراکین کو اس حساس معاملے پر ووٹنگ سے بچاؤ مل گیا۔
یہ بھی پڑھیے 265 ملین ڈالرز رشوت کا الزام، بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی پر امریکا میں فرد جرم عائد
کمیٹی کے چیئرمین مائیکل گیسٹ نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ استعفے کے بعد کمیٹی اس معاملے پر اپنا اختیار کھو چکی ہے، تاہم انہوں نے 2 سالہ تحقیقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ جلد بازی میں نہیں بلکہ تفصیلی شواہد کی بنیاد پر کیا گیا۔
امریکی محکمہ انصاف امریکی محکمہ انصاف نے نومبر میں شیلا میک کارمک پر فردِ جرم عائد کی تھی، جس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے فیما فنڈز میں سے لاکھوں ڈالر ہڑپ کیے اور انہیں مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے اپنی 2022 کی انتخابی مہم میں استعمال کیا۔
الزامات کے مطابق ان کی خاندانی کمپنی ٹرینیٹی ہیلتھ کیئر سروسز کو کووڈ-19 ویکسینیشن پروگرام کے تحت 50 لاکھ ڈالر کی اضافی ادائیگی ملی، جو واپس نہیں کی گئی۔ مزید یہ کہ انہوں نے مبینہ طور پر اسی رقم سے ایک قیمتی ہیروں کی انگوٹھی بھی خریدی۔
اگر عدالت میں جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں 50 سال سے زائد قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ان کا ٹرائل اب فروری 2027 میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
شیلا میک کارمک کے وکیل ولیم بارزی کا مؤقف ہے کہ اخلاقیاتی کمیٹی کو عوامی سماعت نہیں کرنی چاہیے تھی کیونکہ اس سے ان کے مؤکل کے منصفانہ ٹرائل کے حق پر اثر پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی تاریخ میں بہت کم اراکینِ کانگریس کو باضابطہ طور پر نکالا گیا ہے، اور ماضی میں عموماً یہ اقدام کسی مجرمانہ سزا کے بعد ہی کیا جاتا تھا۔ تاہم 2023 میں جارج سینٹوس کو فردِ جرم کے بعد ہی ایوان سے نکال دیا گیا تھا، جس سے اس روایت میں تبدیلی آئی۔














