سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے ڈیجیٹل انصاف کی جانب ایک بڑی پیش رفت کی ہے، جس سے شفافیت، رفتار اور عوامی رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی نظام میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے نفاذ کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو زیادہ شفاف، مؤثر اور عوام کے لیے قابلِ رسائی ہو۔
عدالتِ عظمیٰ نے کثیر المقامی (ملٹی لوکیشن) سماعتوں کا جدید نظام کامیابی سے نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت مختلف شہروں میں موجود ججز، وکلاء اور فریقین بیک وقت عدالتی کارروائی میں شریک ہو سکتے ہیں۔ حالیہ ایک اہم مقدمے کی سماعت میں بینچ اسلام آباد میں موجود تھا، جبکہ وکلاء نے کوئٹہ، حیدرآباد اور کراچی سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، جس سے کارروائی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی۔
یہ بھی پڑھیے عدالتی اصلاحات کے سلسلے میں اہم سنگ میل، نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کا باضابطہ اجرا
ادارہ جاتی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت نے بینچ کی تشکیل میں اچانک تبدیلی کے باوجود فوری طور پر نظام کو ہم آہنگ رکھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اسلام آباد سے سماعت کی قیادت کی جبکہ جسٹس عائشہ اے ملک لاہور سے بینچ کا حصہ بنیں، یوں کارروائی بلا تعطل جاری رہی۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج کا مکمل عدالتی ڈوکیٹ اسلام آباد میں موجود بینچ نے سنا جبکہ وکلاء اور فریقین کوئٹہ سے پیش ہوئے، جو ڈیجیٹل عدالتی نظام کی عملی کامیابی کی واضح مثال ہے۔
ڈیجیٹل اصلاحات اور سہولیات
ان اقدامات کے نتیجے میں روایتی کاغذی کارروائی پر انحصار نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ اب سماعتوں میں مکمل ڈیجیٹل کیس فائلز استعمال کی جا رہی ہیں، جس سے برانچ رجسٹریز سے ریکارڈ طلب کرنے کی ضرورت تقریباً ختم ہو گئی ہے اور عدالتی عمل زیادہ تیز اور مؤثر ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ نے انصاف تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے حامل جدید اقدامات شروع کردیے
سپریم کورٹ کی جانب سے متعارف کرائی گئی اہم اصلاحات میں مقدمات کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، شفاف نگرانی کے لیے بارکوڈنگ نظام، ای فائلنگ کے ذریعے مقدمات کا آسان اندراج، عدالتی احکامات کی فوری الیکٹرانک ترسیل، سائلین کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام، ویڈیو لنک کے ذریعے باقاعدہ سماعتیں اور ای آفس سسٹم کا نفاذ شامل ہیں۔
جدید عدالتی نظام کی جانب پیش رفت
یہ اصلاحات اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ عدالت روایتی نظام سے نکل کر ایک جدید، تیز رفتار اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ عدالتی ڈھانچے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ جغرافیائی حدود کو کم کرتے ہوئے اور فوری رسائی فراہم کرکے یہ نظام نہ صرف انصاف کی فراہمی کو مؤثر بنا رہا ہے بلکہ اسے عوامی ضروریات کے زیادہ قریب بھی لا رہا ہے۔














