امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق اچھی خبر جمعے تک سامنے آسکتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

بدھ 22 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق اچھی خبر جمعہ تک سامنے آسکتی ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں میں مزید امن مذاکرات کا امکان پیدا ہوگیا ہے، صدر ٹرمپ نے اس ممکنہ پیشرفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات: خیبر پختونخوا اسمبلی کی خواتین ارکان کیا کہتی ہیں؟

یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ ایران کی قیادت کی جانب سے متفقہ تجویز آنے تک جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کو ناکہ بندی جاری رکھنے اور مکمل تیاری کی حالت میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور پاکستانی ذرائع کے مطابق جنگ بندی سخت بیانات کے باوجود برقرار ہے، جو دونوں جانب مثبت ارادے کی نشاندہی کرتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک کسی قسم کی عسکری کشیدگی میں اضافہ نہیں ہوا۔

پاکستانی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روک دی، ڈونلڈ ٹرمپ

یاد رہے کہ گزشتہ رات طویل انتظار کے بعد امریکی اور ایرانی وفود مذاکرات کے لیے اسلام آباد تو نہ آئے لیکن رات گئے ایک خبر جاری کی گئی جس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی کی مدت میں غیر معیّنہ توسیع کا اعلان کیا۔

اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایراوانی نے آج اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اُٹھا لے تو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ یہ بیان اس حقیقت کا عکاس ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شمولیت کی واحد رکاوٹ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی ہے۔ اور ایران اس کے خاتمے کے بعد اِسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آسکتا ہے۔

لیکن امریکی صدر کی جانب سے ایران کو ڈیل قبول نہ کرنے کے عوض سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جو امریکی صدر کی جانب سے دباؤ کی سفارت کاری نظر آتی ہے لیکن ایرانی قیادت کے لیے ایسی دھمکیاں قبول کرنا اندرونِ ملک اپنی سیاسی پوزیشن خراب کرنے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی 8 خواتین کی رہائی کا مطالبہ کردیا

ماہرین کے مطابق مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا دارومدار امریکا کی جانب سے اعتماد سازی کے اقدامات پر ہے مثال کے طور پر اگر وہ بحری ناکہ بندی ختم کر کے ایرانی جہازوں کو چھوڑ دیتا ہے تو یہ مذاکرات کی جانب پیش قدمی ہوسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

دنیا میں بحالی امن کی پاکستان کی کوششیں ضرور رنگ لائیں گی لیکن فریقین بھی نرمی برتیں، پاکستانی عوام

ایران امریکا مذاکرات کے بعد پاکستان کی تیز ترین سفارتکاری، قیام امن کے لیے کن عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، رابطے کیے؟

ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

دنیا میں بحالی امن کی پاکستان کی کوششیں ضرور رنگ لائیں گی لیکن فریقین بھی نرمی برتیں، پاکستانی عوام

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار