سپریم کورٹ آج مکمل طور پر فعال رہی اور مختلف رجسٹریز میں مجموعی طور پر 122 مقدمات نمٹا دیے گئے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد، لاہور اور پشاور رجسٹریز میں تمام عدالتی کارروائی بلا تعطل جاری رہی۔ جبکہ سیکیورٹی پابندیوں اور رسائی میں مشکلات کے باوجود عدالتی امور متاثر نہیں ہوئے۔
پرنسپل سیٹ اسلام آباد میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں بینچ نے اپنی کارروائی جاری رکھی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں ای-جوڈیشری کا آغاز، سپریم کورٹ نے نظام جدید بنا دیا
اسی دوران اسلام آباد بینچ نے کوئٹہ رجسٹری سے متعلق مقدمات ویڈیو لنک کے ذریعے سنے، جو جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی ایک مثال قرار دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں 8 مقدمات نمٹائے گئے، جبکہ سپریم کورٹ برانچ رجسٹری پشاور میں 3 بینچز نے مجموعی طور پر 49 مقدمات کا فیصلہ کیا۔
لاہور رجسٹری میں 2 بینچز نے سب سے زیادہ 65 مقدمات نمٹا کر نمایاں کارکردگی دکھائی۔
مزید پڑھیں: ہنگامی صورتحال میں بھی سپریم کورٹ کی کارروائی جاری، ویڈیو لنک کے ذریعے 20 مقدمات نمٹا دیے گئے
عدالتی حلقوں کے مطابق مختلف رجسٹریز کی بیک وقت فعالیت سپریم کورٹ کی انتظامی اور عدالتی استعداد کا مظہر ہے۔
ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال نے مشکل حالات کے باوجود انصاف کی فراہمی کے تسلسل کو یقینی بنایا۔
سپریم کورٹ نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عوام کو مسلسل، مؤثر اور بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔












