سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہنگامی صورتحال کے باوجود عدالتی کارروائی بلا تعطل جاری رکھتے ہوئے ادارہ جاتی استحکام اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی مثال قائم کر دی۔ پرنسپل سیٹ اسلام آباد میں سماعت کے دوران معزز جسٹس عائشہ ملک لاہور رجسٹری سے محفوظ ویڈیو لنک کے ذریعے بینچ میں شریک ہوئیں۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا پی آئی اے کو 24 سالہ بقایا پینشن ادا کرنے کا حکم
یہ انتظام لاہور رجسٹری میں بینچ کی تشکیل سے متعلق غیر معمولی صورتحال کے باعث کیا گیا۔ ماضی میں ایسی صورتحال میں مقدمات عموماً ڈی لسٹ کر دیے جاتے تھے، تاہم عدالت کی جانب سے ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے باعث اس بار تمام سماعتیں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں۔
بینچ نے مقررہ 28 مقدمات میں سے 20 مقدمات کی سماعت مکمل کرتے ہوئے انہیں نمٹا دیا، جو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی کے عزم کی عملی مثال ہے۔
عدالتی کارروائی نے اس امر کو اجاگر کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف غیر متوقع حالات میں بھی انصاف کی فراہمی ممکن ہے بلکہ عدالتی نظام کی کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: اٹارنی کے ذریعے بیٹوں کو زمین کی منتقلی غیرقانونی قرار، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری
چیف جسٹس آف پاکستان نے بار کے تعاون، عدالتی عملے کی فوری ہم آہنگی اور آئی ٹی ٹیموں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسی اشتراک سے سماعت کے اس جدید طریقہ کار کو کامیابی سے نافذ کیا گیا۔














