امریکی محکمہ جنگ نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے مبینہ طور پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں قریباً 6 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی کوئی بھی کارروائی غالباً امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے سے قبل شروع نہیں کی جائے گی، جس کے باعث اس کشیدگی کے معاشی اثرات رواں سال کے آخر یا اس کے بعد تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ جنگ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو ایک خفیہ بریفنگ میں یہ معلومات فراہم کیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جمعے کو اسلام آباد میں متوقع ہے، تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم نہیں کی جائےگی۔
گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی درخواست پر ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا۔
امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جلد از جلد معاہدہ چاہتے ہیں، اور جنگ بندی میں توسیع 3 سے 5 روز کے لیے کی گئی ہے۔












