اسلام آباد میں مذاکرات بہت جلد، ٹرمپ نے  اشارہ دیدیا، ایران کی بھی مشروط آمادگی

جمعرات 23 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے بعد سفارتی پیش رفت کے امکانات تو پیدا ہوئے ہیں، مگر خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور باہمی عدم اعتماد بدستور رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر نے جلد مذاکرات کی امید ظاہر کی ہے جبکہ ایران نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات کے لیے اصولی شرائط دہرائی ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے بعد سفارتی عمل کے لیے نئی گنجائش پیدا ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ (بدھ) روز امید ظاہر کی کہ آئندہ دو سے تین دن کے اندر مذاکرات کا دوسرا دور ممکن ہو سکتا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک پیغام میں عندیہ دیا کہ مذاکرات آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں میں اسلام آباد میں متوقع ہو سکتے ہیں، جس پر انہوں نے مختصراً کہا: ’یہ ممکن ہے۔‘

خلیج میں کشیدگی برقرار

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایرانی بحریہ کی جانب سے کم از کم دو جہازوں کی ضبطی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی مؤقف ہے کہ ناکہ بندی جاری رہے گی، جبکہ رپورٹس کے مطابق ایران کو اپنی تجاویز پیش کرنے کے لیے محدود وقت دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا ادارے ’ایکسیوز‘ نے اپنے وائٹ پاؤس کے ذرائع سے بتایا کہ  صدر ٹرمپ ایران کو مزید تین سے پانچ دن کی مہلت دینے پر آمادہ ہیں، تاہم اس کی کوئی طویل مدت مقرر نہیں کی گئی۔

فاکس نیوز نے بھی اس پیش رفت کی اطلاع ایک نامعلوم امریکی عہدیدار کے حوالے سے دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ توسیع اس وقت تک رہے گی جب تک ایرانی حکومت، جسے انہوں نے ’تقسیم شدہ‘ قرار دیا، اپنی کوئی تجویز پیش نہیں کرتی، تاہم انہوں نے اس کے لیے کوئی واضح مدت نہیں دی۔

تاہم بعد میں ٹرمپ نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے حوالے سے کسی قسم کا ’وقت کا دباؤ‘ نہیں ہے اور نہ ہی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی نئی تاریخ طے کی گئی ہے، فاکس نیوز نے دن کے آخر میں یہ رپورٹ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی میں تین سے پانچ دن کی توسیع سے متعلق خبریں ’غلط‘ ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ جنگ کب ختم ہو سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے کوئی مقررہ وقت نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی جلدی ہے۔

ایران کا ردعمل

دوسری جانب تہران نے اندرونی اختلافات کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ایرانی صدر کے دفتر میں مواصلات کے نائب مہدی طباطبائی نے، جن کا حوالہ الجزیرہ نے دیا، ان الزامات کو ’سیاسی پروپیگنڈا‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت میں اتحاد ’مثالی اور بے مثال‘ ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا:
’جھوٹ گھڑنے کے بجائے انہیں اپنی وعدہ خلافی، دباؤ ڈالنے اور دھوکے بازی بند کرنی چاہیے؛ انصاف، وقار اور عقل پر مبنی مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔‘

اسی طرح رائٹرزنے ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت میں بامعنی ہو سکتی ہے جب امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے ذریعے اس کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایسی ’کھلی خلاف ورزی‘ کی موجودگی میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ممکن نہیں۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ وعدہ خلافی، ناکہ بندی اور دھمکیاں‘ حقیقی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا:
’اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ وعدہ خلافی، ناکہ بندی اور دھمکیاں ہی حقیقی مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ دنیا آپ کے مسلسل منافقانہ بیانات اور دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد کو دیکھ رہی ہے۔‘

سفارت کاری اور پاکستان کا کردار

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکرات کی بحالی سے متعلق واضح جواب دینے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ سفارت کاری قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے اور مناسب حالات میں اسے بروئے کار لایا جائے گا۔

انہوں نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تہران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے۔

دیگر پیش رفت

دریں اثنا، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں دو کنٹینر بردار جہازوں کو ضبط کر لیا، جن میں پاناما اور لائبیریا کے پرچم بردار جہاز شامل ہیں۔ برطانوی سکیورٹی اداروں کے مطابق ایک اور جہاز پر بھی فائرنگ کی گئی۔

ادھر صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آٹھ خواتین قیدیوں کی سزائے موت روکنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ چار خواتین کو فوری رہا کیا جائے گا جبکہ دیگر کو مختصر قید دی جائے گی، تاہم ایرانی عدلیہ اس سے قبل سزائے موت کی خبروں کی تردید کر چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکا نے اپنا بحری بیڑا ’جارج بش‘ بحیرہ ہند میں اتار دیا

بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، 84 لاکھ ٹکا مالیت کی بھارتی ساڑیاں برآمد

سکھ رہنماؤں کو بھارتی دھمکیاں، سکھ فار جسٹس نے بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو لیک کردی

ویڈیو

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

خیبر پختونخوا: دہشتگردی کے واقعات میں کمی، پشاور کے شہری کیا کہتے ہیں؟

پہلگام حملہ: کیا یہ خود ساختہ منصوبہ تھا؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار