امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے منسلک کرپٹو منصوبہ ایک بڑے قانونی تنازعے میں گھر گیا ہے، جہاں ایک ارب پتی سرمایہ کار نے اس پر بھتہ خوری اور غیر قانونی اقدامات کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
کرپٹو ارب پتی جسٹن سن اور ان کی کمپنیوں نے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جو صدر ٹرمپ اور ان کے بیٹے ایرک ٹرمپ کے اشتراک سے قائم کیا گیا ایک کرپٹو منصوبہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے حلف لینے سے قبل جاری کی گئی کرپٹو کرنسی سے ٹرمپ کی دولت میں کتنے ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا؟
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی نے بھتہ خوری کرتے ہوئے ایک ’غیر قانونی منصوبے‘ کے تحت جسٹن سن کے ٹوکنز پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ سن کا کہنا ہے کہ کمپنی نے ان کے تمام ٹوکنز ’منجمد‘ کر دیے ہیں اور انہیں کمپنی کے انتظامی فیصلوں میں ووٹنگ کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔
سان فرانسسکو کی وفاقی عدالت میں دائر درخواست کے مطابق جسٹن سن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل ’زوال کے دہانے پر‘ ہے اور یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا کمپنی کے پاس اپنے USD1 اسٹیبل کوائن کو سہارا دینے کے لیے مناسب ذخائر موجود ہیں یا نہیں۔
مقدمے کے مطابق جسٹن سن نے 2024 اور 2025 کے دوران مجموعی طور پر 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے کمپنی کے 3 ارب WLFI ٹوکنز خریدے، جبکہ بطور مشیر خدمات انجام دینے پر انہیں مزید ایک ارب ٹوکنز دیے گئے۔
تاہم ان کے مطابق گزشتہ سال کے وسط میں کمپنی کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہو گئے، جب انہوں نے مزید سرمایہ کاری اور تعاون سے انکار کر دیا۔ حالیہ ہفتوں میں دونوں فریقین کے درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی سخت بیانات کا تبادلہ دیکھنے میں آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کی طرف سے ’کرپٹو ریزرو‘ بنانے کے اعلان کے بعد کرپٹو کرنسی کی قدر میں بڑا اضافہ
جسٹن سن، جو خود ایک بڑے کرپٹو منصوبے TRON کے بانی ہیں، ماضی میں ٹرمپ اور ان کی کرپٹو پالیسیوں کے حامی رہے ہیں، تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ ورلڈ لبرٹی سے وابستہ بعض افراد صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے برخلاف اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا ’انہوں نے بلا جواز میرے تمام ٹوکنز منجمد کر دیے، مجھے ووٹنگ کے حق سے محروم کیا اور یہاں تک کہ انہیں مستقل طور پر ختم کرنے (‘برن’ کرنے) کی دھمکی بھی دی۔‘
رپورٹ کے مطابق WLFI ٹوکن کی قیمت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے اور ستمبر سے اب تک اس کی قیمت 31 سینٹ سے گر کر تقریباً 8 سینٹ رہ گئی ہے، جس سے منصوبے کی مالی صورتحال پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔














