کراچی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ صالح آصف نے اپنی شاندار کامیابی کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرتے ہوئے فوربس ارب پتیوں کی فہرست میں جگہ بنا لی ہے۔ وہ امریکی ادارے MIT سے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ ‘Cursor’ کے شریک بانی ہیں، جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک جدید کوڈ ایڈیٹنگ ٹول فراہم کرنے والی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کمپنی ہے۔
نومبر 2025 میں Cursor نے ایک بڑے سرمایہ کاری راؤنڈ کے دوران 2.3 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی جس کی قیادت معروف عالمی وینچر کیپیٹل فرموں Accel اور Coatue نے مشترکہ طور پر کی۔ اس کے بعد کمپنی کی مجموعی مالیت 29.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جس نے اسے دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی اے آئی اسٹارٹ اپس میں نمایاں مقام دلایا۔
26 year old from Karachi makes it to Forbes Billionaires List
Sualeh Asif cofounded Cursor, the maker of a popular AI code editing tool, with three friends from MIT
Cursor reached a $29.3 billion valuation in November 2025, after raising $2.3 billion in a funding round co-led… pic.twitter.com/dHLBsEU9fa
— omar r quraishi (@omar_quraishi) April 23, 2026
Cursor کے مطابق، کمپنی کی سالانہ آمدنی ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس پلیٹ فارم کو اس وقت لاکھوں سافٹ ویئر ڈویلپرز استعمال کر رہے ہیں، جبکہ Nvidia، Adobe، Uber اور Shopify سمیت 50 ہزار سے زائد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اسے کوڈ لکھنے اور ایڈیٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
صالح آصف نے تعلیمی میدان میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ انہوں نے 2016 سے 2018 تک پاکستان کی نمائندگی انٹرنیشنل میتھمیٹکس اولمپیاڈ میں کی۔ MIT کے دوران ہی انہوں نے ایک AI پر مبنی سرچ انجن اسٹارٹ اپ بھی شروع کیا تھا جو ان کی ابتدائی کاروباری صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین بھی اس نوجوان سے متاثر ہیں اور اس کی خوب تعریف کر رہے ہیں۔ عمر سیف لکھتے ہیں کہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے اصل رول ماڈلز اسی طرح کے ہونے چاہئیں نہ کہ وہ لوگ جو پراپرٹی ڈیلنگ، ٹیکس چوری، بینک ڈیفالٹس، کرائے داری کے نظام یا پہلے سے موجود خاندانی دولت کے سہارے آگے بڑھتے ہیں۔ بلکہ ایسے افراد جو ایک متوسط طبقے کے گھرانے سے نکل کر اپنی محنت، قابلیت اور جدت کے ذریعے اپنی پہچان بناتے ہیں۔
Finally the kind of role models Pakistani youth needs: Sualeh Arif.
Not property dealers, tax evaders, bank defaulters, rent seekers, born into wealth etc.
But a self-made kid from a middle-class family in Karachi. Studied at MIT, started a hugely impactful company, changed…
— Umar Saif (@umarsaif) April 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے سُلیح عارف نے MIT میں تعلیم حاصل کی، ایک انتہائی مؤثر ٹیکنالوجی کمپنی قائم کی، کوڈ لکھنے کے انداز کو بدل کر رکھ دیا، اور صرف 26 سال کی عمر میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی مالیت تک پہنچ گئے۔
ایک صارف کا جکہنا تھا کہ یہ مصنوعی ذہانت کی غیر معمولی اور تیز رفتار ترقی کی بے مثال صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے جو بہت کم وقت میں بڑے پیمانے پر مالی اور تخلیقی مواقع پیدا کر رہی ہے۔
Whole of #Careem operations was sold for $3.1Bn, after 8 years of building.
Another Karachi-origin founder of #CursorAI , will stand to make $3Bn alone after 4 years of building from exit to SpaceX.
That is the exponential gargantuan promise of #AI.
It also proves, that if…
— Malik Ahmad Jalal (@AhmadJalal_1) April 22, 2026














