ڈیورنڈ لائن کے مسئلے پر افغانستان میں ایک نیا سیاسی اور فکری مباحثہ شروع ہو گیا ہے، جہاں ایک طرف متعدد رہنما اسے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسے تاریخی و نسلی نعرے کے طور پر زندہ رکھنے والے حلقے موجود ہیں۔ حالیہ بیانات کے بعد یہ بحث ’حقیقت پسندی بمقابلہ نسلی/ذیلی قومیتی بیانیہ‘ کی شکل اختیار کر گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوجی کشیدگی، مستقبل کا منظرنامہ اور دفاعی تجزیہ نگاروں کی رائے
یہ بحث اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گئی جب افغان رہنما محمد محقق نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ڈیورنڈ لائن اقوام متحدہ کے اصولوں کے تحت تسلیم شدہ بین الاقوامی سرحد ہے اور افغانستان کو زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ماضی کے تنازعات میں الجھنے کے بجائے موجودہ بحرانوں پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے اس بیان کے بعد بعض حلقوں نے سخت ردعمل دیا، تاہم جلد ہی کئی افغان سیاسی و فکری شخصیات نے ان کے مؤقف کی حمایت بھی شروع کر دی۔

تجزیہ کار عزیز آریان فر نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان اپنی داخلی تقسیم اور بحرانوں کے باعث آزادانہ طور پر مؤثر عالمی کردار ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’گریٹر تاجکستان‘، ’پشتونستان‘ یا دیگر نسلی ریاستوں جیسے خیالات نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہیں بلکہ خطے کو شدید تنازع اور خونریزی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
ان کے مطابق افغانستان اور پاکستان کی سرحدیں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہیں اور عالمی قانون کے تحت ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو تسلیم کرنا لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قائم طالبان حکومت کے اقدامات خلاف شریعت، ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ پر تنقید بھی جرم
سابق رکن پارلیمنٹ نیلوفر ابراہیمی نے بھی کہا کہ ڈیورنڈ لائن کو جذبات اور نسلی اختلافات سے الگ رکھنا چاہیے، کیونکہ تاریخی اور قانونی طور پر یہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی سرحد ہے۔ اسی طرح عبد المنان شیوے شرغ نے بھی محمد محقق کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سرحد پر عمومی اتفاق موجود ہے۔
سابق ترجمان عبداللہ عبداللہ، مجیب الرحمان رحیمی نے کہا کہ افغانستان پاکستان کو اس کی موجودہ سرحدوں کے ساتھ تسلیم کرتا ہے اور سرحدی تنازع کی کوئی بنیاد نہیں۔ ان کے مطابق ’پشتونستان‘ جیسے مطالبات کسی قومی اتفاق رائے کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ محدود سیاسی گروہ کا مؤقف ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا حل تقسیم یا پراکسی جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور تعاون ہے۔

افغانستان ریپبلک فرنٹ نے اپنے باضابطہ بیان میں کہا کہ افغانستان کی سرحدیں بین الاقوامی قانون کے تحت واضح اور تسلیم شدہ ہیں، اور ڈیورنڈ لائن ایک ناقابلِ انکار قانونی و سیاسی حقیقت ہے۔ بیان میں سیاسی رہنماؤں سے اپیل کی گئی کہ وہ جذباتی اور نسلی بیانیوں سے گریز کریں اور طالبان حکومت، غربت اور تنہائی جیسے بڑے بحرانوں پر توجہ دیں۔
دوسری جانب محققین اور مبصرین کے مطابق اس مباحثے میں ایک واضح رجحان یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ وسیع افغان قومی اتفاق رائے کا موضوع نہیں بلکہ زیادہ تر ایک محدود سیاسی و نسلی اشرافیہ کے بیانیے تک محدود ہے۔

اس تناظر میں کچھ حلقے اس بیانیے کو پاکستان مخالف جذبات ابھارنے اور افغانستان کے اندرونی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کو اس وقت شدید سیاسی، معاشی، اور ادارہ جاتی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں طالبان کی حکمرانی، معاشی بحران اور بین الاقوامی تنہائی شامل ہیں۔
مجموعی طور پر ماہرین کے مطابق افغان سیاسی سوچ میں ایک واضح تبدیلی سامنے آ رہی ہے، جہاں ایک طبقہ حقیقت پسندانہ ریاستی سوچ کی طرف بڑھ رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ پرانے نسلی اور جذباتی بیانیے کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔














