پاکستان کو روسی مارکیٹ تک رسائی، سی فوڈ ایکسپورٹ میں بڑی پیش رفت

جمعرات 23 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے چند رو قبل ملک کی ماہی گیری کی صنعت کے لیے ایک تاریخی سنگ میل کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے پہلی بار روسی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے۔

اس اہم پیشرفت کے بعد پاکستان کی 16 بڑی کمپنیوں کو روس میں سی فوڈ برآمد کرنے کی باقاعدہ اجازت مل گئی ہے، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافے کی توقع ہے۔

معیشت پر اثرات، 800 ملین ڈالر کا ہدف

روس جیسی بڑی مارکیٹ کا کھلنا پاکستانی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ہے،  تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی موجودہ سالانہ برآمدات روس کی مارکیٹ تک رسائی کے بعد 800 ملین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

صرف روس سے ابتدائی طور پر 300 ملین ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا، جو تجارتی خسارے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

پاکستان فشریز ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے سابق چئیرمین مسلم محمدی کا کہنا ہے کہ اس وقت 16 کمپنیوں کو لائسنس ملے ہیں جس میں سب سے بڑا کردار وفاقی وزیر جنید انور چوہدری اور ڈی جی ایم ایف ڈی منصور حسن کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان روس کی سی فوڈ مارکیٹ پہنچ گیا، 30 کروڑ ڈالر کی ابتدائی برآمدات کا امکان روشن

’ان کی کاوشوں سے  یہ کمپنیاں رجسٹر ہوئی ہیں اور اس سے پاکستان کو تقریباً 300 ملین ڈالر کی مارکیٹ ملی ہے، جس سے ہماری برآمدات میں 300 ملین ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔‘

مسلم محمدی کے مطابق ابھی اور کمپنیاں بھی اب رجسٹرڈ ہوں گی۔’اب ہمارے لیے ایک راستہ کھل گیا ہے یہ ہمارا روس کے ساتھ سی فوڈ کے حوالے سے پہلا تجارتی معاہدہ ہے، ہمارے ہاں سے سمندری مچھلی اور جھینگا بھی روس برآمد کیا جائے گا۔‘

 ان کا کہنا تھا کہ روس ہماری شپمنٹ آبی اور زمینی راستے سے جا سکتی ہے بلکہ اب یہ ایک راستہ کھل گیا ہے جو بند تھا اس سے ہم رشین فیڈریشن کی سابق ریاستوں جیسے قازقستان ہے یا تاجکستان تک اپنی شپمنٹس بھیجنا شروع کرسکتے ہیں۔

’۔۔۔اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ باقی ریاستوں کے لیے اب پرمٹ کی بھی ضرورت نہیں ہوگی کیوں کہ ہمیں روس کا پرمٹ مل چکا ہے۔‘

مقامی انڈسٹری کی بحالی اور نئے مواقع

فشر فوک کے ترجمان کمال شاہ کا کہنا ہے کہ روسی مارکیٹ تک رسائی سے نہ صرف بڑی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا بلکہ مقامی ماہی گیروں اور پروسیسنگ یونٹس کی حالت بھی بہتر ہوگی، میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بین الاقوامی معیارات کی سختی سے نگرانی مقامی انڈسٹری کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر مجبور کرے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ برآمدات میں اضافے سے ساحلی علاقوں خصوصا کراچی اور گوادر میں ہزاروں نئے روزگار پیدا ہوں گے، یہ معاہدہ قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان جیسی ریاستوں کے لیے بھی راستے کھولے گا، جہاں پاکستانی مچھلی کی طلب پہلے ہی موجود ہے۔

تجارتی راہداری، سمندر سے زمین تک

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ سی فوڈ کی ترسیل کے لیے صرف سمندری راستہ ہی نہیں بلکہ زمینی اور فضائی راستے بھی استعمال ہوں گے۔ وسطی ایشیائی ممالک کے لیے زمینی راستہ سب سے کم لاگت اور تیز ترین ذریعہ ثابت ہوگا، جس سے کراچی اور پورٹ قاسم بندرگاہوں کی اہمیت علاقائی تجارت کے مرکز کے طور پر ابھرے گی۔

معاشی ماہر شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ یہ تجارتی تعلق محض مچھلی کی فروخت تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یہ پاکستان کے لیے یوریشین اکنامک یونین کے دیگر ممالک تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ بنے گا۔

مزید پڑھیں: غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر پر بڑھتا اعتماد، 3 ماہ میں 220 کمپنیاں رجسٹرڈ

’اگر ہم اپنی کوالٹی کنٹرول کو برقرار رکھتے ہیں تو یہ حجم چند سالوں میں ایک بلین ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔‘

انہوں نے مقامی انڈسٹری کے لیے اسے ایک بڑا چیلنج اور موقع قراردیا۔ ’ہمیں اپنی کولڈ چین سپلائی اور پیکجنگ کو روسی معیارات کے مطابق ڈھالنا ہوگا تاکہ طویل مدتی تجارتی شراکت داری قائم رہ سکے۔‘

پاکستان کی سمندری حدود اور مچھلی کے شکار کا رقبہ

پاکستان کی ساحلی پٹی تقریباً 1,050 کلومیٹر طویل ہے، جس میں سے 350 کلومیٹر سندھ اور 700 کلومیٹر بلوچستان میں واقع ہے۔ پاکستان میں مچھلی کی کل پیداوار کا بڑا حصہ سمندر سے حاصل ہوتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق، پاکستان سالانہ تقریباً 7 سے 8 لاکھ میٹرک ٹن مچھلی پکڑی جاتی ہے، پاکستان کی سمندری حدود میں مچھلیوں کی 250 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جن میں جھینگے، لابسٹر، اور کیکڑے بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بری امام میں گھروں کے انہدام کا کیس وفاقی آئینی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر

آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود برقرار رہے گی؟

انسانی شعور کو کوانٹم عمل سے سمجھا جا سکتا ہے، آکسفورڈ کے سائنسدان کا دعویٰ

قومی سلامتی کمیٹی کا بھارت کو سخت پیغام، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا

سکھر میں ٹوپی کس نے اتاری؟ گورنر سندھ نہال ہاشمی کی وائرل ویڈیو پرنئی بحث چھڑ گئی

ویڈیو

قومی سلامتی کمیٹی کا بھارت کو سخت پیغام، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار