پاکستان روس کی سی فوڈ مارکیٹ پہنچ گیا، 30 کروڑ ڈالر کی ابتدائی برآمدات کا امکان روشن

جمعہ 17 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے روس کی سی فوڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے کیونکہ روس نے 16 پاکستانی سی فوڈ پروسیسنگ پلانٹس کو برآمدات کے لیے رجسٹر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سی فوڈ برآمدات کو امریکی مارکیٹ میں 4 سال کی توسیع مل گئی

یہ پیشرفت برآمدی منڈیوں میں تنوع اور یوریشیا کے ساتھ تجارت بڑھانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا کہ اس منظوری کے بعد پاکستان سے روس کو منظم انداز میں سی فوڈ کی برآمدات کا آغاز ممکن ہو گیا ہے جبکہ اس سے خطے کی دیگر منڈیوں تک رسائی کے بھی دروازے کھل گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ روسی حکام نے پاکستان کی 16 سی فوڈ پروسیسنگ فیکٹریوں کو کلیئرنس دے دی ہے جو میری فشریز ڈیپارٹمنٹ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

ان کے مطابق یہ پیش رفت مسلسل تکنیکی اور سفارتی رابطوں کے ذریعے ممکن ہوئی ہے، اور اس سے تقریباً 30 کروڑ ڈالر کی ابتدائی برآمدی گنجائش پیدا ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان کی سی فوڈ برآمدات

پاکستان کی موجودہ سی فوڈ برآمدات تقریباً 50 کروڑ ڈالر سالانہ ہیں جبکہ توقع ہے کہ نئی منڈیوں کے حصول سے یہ بڑھ کر آنے والے برسوں میں 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان سعودیہ زرعی تعاون: گرین انیشیٹو کے ثمرات ملنا شروع، 64 جدید زرعی فارمز سے پیداوار کی برآمد
روسی مارکیٹ میں داخلہ پاکستان کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد روایتی منڈیوں جیسے چین، خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور امریکا پر انحصار کم کرنا ہے۔

حکام کے مطابق اس پیشرفت سے یوریشین اکنامک یونین تک بالواسطہ رسائی بھی حاصل ہو گی، جس سے قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان جیسے وسطی ایشیائی ممالک میں بھی برآمدات کے مواقع پیدا ہوں گے جہاں بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور پروٹین سے بھرپور غذا کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔

برآمدات سمندری، فضائی اور زمینی راستوں سے ہوں گی جن میں وسطی ایشیا کے ذریعے کم لاگت زمینی راستے بھی شامل ہیں۔ کراچی اور گوادر سمیت پاکستان کی گرم پانیوں کی مچھلیاں، جھینگا اور ربن فش جیسی مصنوعات ان نئی منڈیوں کی طلب پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

پاکستانی ٹماٹر پابندیوں سے آزاد ہوگیا

وزیر نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع، بندرگاہوں کا نظام اور بین الاقوامی معیار پر عمل درآمد اس کی برآمدی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں تاہم طویل مدتی ترقی کے لیے لاجسٹکس اور پالیسی میں مسلسل بہتری ضروری ہے۔

یہ منظوری ایک اور پیشرفت کے بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت روس نے حال ہی میں پاکستانی ٹماٹر کی درآمد پر پابندیاں ختم کر دی ہیں جس سے محدود پیمانے پر دوبارہ ترسیل شروع ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا کسان دوست پالیسیوں پر زور،گندم خریداری، باردانہ تقسیم اور زرعی پیداوار میں ریکارڈ بہتری کا دعویٰ

یہ دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت میں بتدریج نرمی کی علامت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انمول پنکی کا مبینہ وائس نوٹ ماننے سے انکار، پولیس آواز ٹیسٹ لینے کے لیے عدالت پہنچ گئی

آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں مہاجرین نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت شروع، آئینی سوالات زیرِ غور

استحکام پاکستان پارٹی کی آزادکشمیر میں رجسٹریشن ، نوٹیفکیشن جاری

ایشین گیمز 2026:آمنہ بلوچ کے ہاتھوں بھارتی ریسلر کو شکست، پاکستان کے لیے گولڈ میڈل

بشکیک میں پاکستان کی سفارتی پیشرفت، محسن نقوی کی روس سمیت 5 ممالک کے وزرائے داخلہ سے اہم ملاقاتیں

ویڈیو

امریکا۔ایران کشیدگی میں شدت، ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

گلگت بلتستان انتخابات: معذور ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچنے میں مشکلات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کا اعلان، کیا محمود اچکزئی مائنس ہوگئے؟

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟