اقوام متحدہ کے تعلیمی، علمی اور ثقافتی ادارے ‘یونیسکو’ نے کہا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری سینٹی گریڈ کی بچت صدی کے اختتام تک دنیا کے قدیم اور ثقافتی ورثے کے مقامات کو بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔
جمعرات کو جاری ہونے والی پہلی جامع عالمی رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ موسمیاتی رجحانات برقرار رہے تو سال 2050 تک دنیا کا ہر چوتھا تاریخی مقام شدید خطرے سے دوچار ہو جائے گا، بروقت اقدامات نہ کرنے کی صورت میں نہ صرف قدرتی نظام بلکہ ان مقامات پر منحصر انسانی آبادیاں بھی سنگین خطرات کی زد میں آسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تیزی سے بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت کون سے نئے خطرات پیدا کررہا ہے؟
ماہرین کا ماننا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کو روک کر عالمی ورثے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات میں 50 فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ یونیسکو نے اس ضمن میں رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ان مقامات کی حفاظت کے لیے فنڈنگ اور تکنیکی مہارت میں اضافہ کریں، کیونکہ مالی وسائل کی کمی کے باعث کئی اہم مقامات موسمیاتی اثرات کا مقابلہ کرنے کی سکت کھو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پھیلے یونیسکو کے 2260 مقامات تقریباً 13 ملین مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہیں، جہاں عالمی آبادی کا 10 فیصد یعنی 90 کروڑ افراد آباد ہیں۔ یہ مقامات نہ صرف مقامی لوگوں کا ذریعہ معاش ہیں بلکہ عالمی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سال2025 کے دوران درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے
رپورٹ میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے کہ عالمی دباؤ کے باوجود ان مخصوص مقامات پر جنگلی حیات کی آبادی مستحکم رہی ہے، جو کہ عالمی سطح پر جنگلی حیات میں ہونے والی 73 فیصد کمی کے برعکس ایک مثبت اشارہ ہے۔
یونیسکو نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بناتے ہوئے ان منفرد مقامات کو ثقافتی شناخت اور پائیدار ترقی کے مراکز کے طور پر محفوظ بنائیں۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ مربوط انتظامی ڈھانچے، جنگلات کی دوبارہ بحالی اور بہتر گورننس کے ذریعے ان مقامات کو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال بنایا جاسکتا ہے۔














