ایک نئی 19 سالہ طویل تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دن کے وقت زیادہ دیر تک یا بار بار جھپکیاں لینے والے افراد میں صحت کے مسائل اور موت کے خطرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔
یہ تحقیق معروف طبی جریدے میں 20 اپریل کو شائع ہوئی، جس میں امریکا کے 2 بڑے طبی اداروں کے محققین شامل تھے۔
مطالعے میں 56 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 1300 سے زائد افراد کے ڈیٹا کا قریباً 19 سال تک جائزہ لیا گیا، جس میں پہننے کے قابل آلات کے ذریعے نیند کے پیٹرن ریکارڈ کیے گئے۔
مزید پڑھیں: کیمپنگ بہتر نیند اور دیرپا مثبت اثرات کے لیے سودمند، چلیں آزماتے ہیں
نتائج کے مطابق:
زیادہ دیر تک یا بار بار جھپکی لینے والے افراد میں مجموعی اموات کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔ صبح کے وقت جھپکی لینے والوں میں بھی نسبتاً زیادہ صحت کے مسائل دیکھے گئے۔ دن میں سونے کا تعلق دل کی بیماریوں، اعصابی مسائل اور جسم میں سوزش جیسے مسائل سے جوڑا گیا۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ کے مطابق، زیادہ دن کی نیند اکثر کسی بنیادی بیماری، دائمی صحت کے مسائل یا نیند کے نظام میں خرابی کی علامت ہو سکتی ہے، نہ کہ خود ایک وجہ۔
محققین نے واضح کیا کہ یہ نتائج صرف تعلق ظاہر کرتے ہیں، لیکن یہ ثابت نہیں کرتے کہ دن میں سونا براہِ راست موت کا سبب بنتا ہے۔
مزید پڑھیں: ذہنی صحت کا سوشل میڈیا کے استعمال سے کیا تعلق ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ مختصر جھپکی تھکن کم کرنے اور چستی بڑھانے میں مددگار ہو سکتی ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ دن میں سونا صحت کے لیے خطرے کی علامت ہو سکتا ہے۔














