وفاقی حکومت نے ملک بھر کے 30 فیلڈ آڈٹ دفاتر میں ‘آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم’ (اے ایم آئی ایس) کا نفاذ مکمل کرلیا ہے، جو عوامی شعبے کے آڈٹ نظام کو جدید بنانے کی سمت میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق تمام فیلڈ دفاتر کی ٹیمیں اب دستی کام کے بجائے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل ہو چکی ہیں، جس کے بعد اس منصوبے میں 100 فیصد پیش رفت حاصل کرلی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جائیداد کے شعبے میں شفافیت کے لیے قومی احتساب بیورو کا آن لائن نظام متعارف
اس نئے نظام کے تحت تمام آڈٹ اب ‘رسک بیسڈ’ یعنی خطرات کے تعین کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف آڈٹ کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ وسائل کا صحیح استعمال بھی ممکن ہوسکے گا۔ اس ڈیجیٹل تبدیلی کا مقصد سرکاری مالیاتی معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا اور آڈٹ کے عمل کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
نظام کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اب تک آڈٹ کے شعبے سے وابستہ 3083 ملازمین کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کی جاچکی ہے، جبکہ 947 آڈیٹرز کو عالمی سطح کی پیشہ ورانہ اسناد بھی دلوائی گئی ہیں جو مقررہ ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں بجلی چوری کا نیا ریکارڈ، آڈٹ رپورٹ میں ہوشربا انکشافات سامنے آگئے
تربیتی نصاب میں بین الاقوامی اکاؤنٹنگ معیارات اور ڈیٹا کے تجزیے کے جدید آلات کا استعمال شامل ہے تاکہ آڈٹ کے عمل کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جاسکے۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات طرزِ حکمرانی کو بہتر بنانے اور احتساب کے نظام کو مضبوط کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔ ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کی اس مشترکہ ترقی سے نہ صرف آڈٹ کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ عوامی شعبے میں مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے میں بھی مدد ملے گی۔














