پاکستانی ثالثی ٹیم کے ساتھ اہم بات چیت کے بعد امریکا اور ایران کے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے امکانات ایک بار پھر روشن ہوگئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آج رات اسلام آباد آمد متوقع ہے جبکہ امریکی لاجسٹکس اور سیکیورٹی ٹیم پہلے ہی دارالخلافے میں موجود ہے۔
امریکا کی جانب سے بھی ایک انتہائی اہم وفد کی آمد متوقع ہے جس میں سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد ہفتے کی رات تک اسلام آباد پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور، وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی اور ایرانی سفیروں سے ملاقاتیں
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی مصالحتی ٹیم کے ساتھ ہونے والی اہم بات چیت اور مشاورت کے نتیجے میں اب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا قوی امکان پیدا ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکا کی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیمیں پہلے ہی اسلام آباد میں موجود ہیں تاکہ مذاکراتی عمل کے لیے ضروری انتظامات کو یقینی بنایا جاسکے۔
Iran’s FM @araghchi held separate phone calls with Pakistan’s Deputy PM & FM @MIshaqDar50 and Army Chief Field Marshal Asim Munir on regional developments and ceasefire-related issues. #Iran #Pakistan #Diplomacy pic.twitter.com/8bupXjpqPv
— Government of the Islamic Republic of Iran (@Iran_GOV) April 24, 2026
اس اہم دورے سے قبل سفارتی سطح پر رابطوں میں تیزی دیکھی گئی ہے، جہاں ایرانی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کے ساتھ ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو کی تھی۔ ان رابطوں کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ہے۔
ایرانی حکومت کے ایک ایکس اکاونٹ سے ایک پوسٹ کی گئی، جس میں کہا گیا کہ ایران کے وزیر خٓارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر خٓرجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فون پر الگ الگ بات کی اور جنگ بندی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے اس بیان کو اپنے اکاونٹ سے بھی ری پوسٹ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی، باہمی اعتماد سے مزید استحکام ممکن ہے، ایران
پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے اور اسلام آباد میں ہونے والی یہ ممکنہ بیٹھک علاقائی امن اور استحکام کے لیے کلیدی ثابت ہوسکتی ہے۔ تمام متعلقہ فریقین کی اسلام آباد میں موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ ہونے والی سفارت کاری اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔













