بنگلہ دیش حکومت نے غیر فعال صنعتی یونٹس کی بحالی، نئی سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے رواں سال دسمبر تک 6 سرکاری جوٹ ملیں لیز پر دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔
ٹیکسٹائلز اور جوٹ کے وزیرعبدالمقتدر نے جمعرات کو ڈھاکہ میں منعقدہ ایک ہنگامی اسٹیک ہولڈرز اجلاس کے بعد اس اقدام کا اعلان کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان 6 ملوں میں سے ہر ایک سے ایک ہزار سے زائد ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ ہر یونٹ میں اندازاً 200 کروڑ سے 500 کروڑ ٹکا تک سرمایہ کاری ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے علاقے کھلنا میں شدید گرمی کی لہر، بجلی کی قلت سے مشکلات میں اضافہ
وزیر کے مطابق اجلاس میں بند ملوں کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا گیا، سرمایہ کاری کے امکانات کا اندازہ لگایا گیا اور باقی یونٹس میں سرمایہ کاری تیز کرنے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے سے نجی شعبے کو لیز پر دی گئی کئی ملوں میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جہاں خاطر خواہ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
عبدالمقتدر نے کہا کہ حکومت کا منصوبہ ہے کہ وزارت کے تحت تمام ملوں کو بتدریج دوبارہ فعال کیا جائے، جن میں کچھ کو جوٹ سے متعلقہ سرگرمیوں اور دیگر کو متنوع صنعتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، 84 لاکھ ٹکا مالیت کی بھارتی ساڑیاں برآمد
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ریاستی وزیر شرفیول عالم نے کہا کہ حکومت زمینی حقائق کے جائزے کی بنیاد پر بحالی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے اور فوری فیصلے کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ صنعتی اثاثے دوبارہ معاشی طور پر قابلِ عمل بن سکیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کےعام انتخابات تاریخی موڑ قرار، نئی حکومت کو معاشی چیلنجز کا سامنا
یہ ملیں بنگلہ دیش جوٹ ملز کارپوریشن کے تحت چلتی ہیں، جس نے 2020 میں 25 ملیں بند کر دی تھیں، جن میں سے 20 کو لیز پر دینے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق اب تک 14 ملیں نجی سرمایہ کاروں کے حوالے کی جا چکی ہیں، جن میں سے 9 نے دوبارہ پیداوار شروع کر دی ہے اور تقریباً 9,500 ملازمتیں پیدا ہو چکی ہیں۔
اجلاس میں بنگلہ دیش انویسٹمنٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ایگزیکٹو چیئرمین عاشق چوہدری، وزارت کے سینیئر حکام اور سرمایہ کاروں کے نمائندے بھی شریک تھے۔












