مارگلہ کے دامن میں ترقیاتی کام ماحولیاتی دہشتگردی قرار، ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کام روکنے کا مطالبہ

جمعہ 24 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر(ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان نے اسلام آباد کے مارگلہ ہلز کے دامن میں جاری ترقیاتی کاموں کو جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کے لیے ناقابل تلافی خطرہ قرار دیتے ہوئے تمام سرگرمیاں فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

 یہ انتباہ وزارتِ داخلہ کی جانب سے مارگلہ کے دامن میں ایک ہزار کنال پر محیط نئے پارک، کرکٹ اسٹیڈیم، ہوٹلز اور اولمپک ویلیج کے قیام کے اعلان کے 3 دن بعد سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مارگلہ ہلز نیشنل پارک کو دوبارہ سبز بنانے کی مہم کا آغاز

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے اپنے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی اور انفراسٹرکچر کی توسیع سے ماحولیاتی تنزلی ہورہی ہے۔

 تنظیم کے مطابق مارگلہ ہلز نیشنل پارک شہر کے لیے ‘پھیپھڑوں’ اور قدرتی واٹر فلٹر کا کام کرتا ہے، لیکن یہاں سڑکوں کا جال بچھانے اور زمین صاف کرنے سے جنگلی حیات کی نقل و حرکت کے راستے متاثر ہورہے ہیں اور زیرِ زمین پانی کی سطح گرنے کا خدشہ ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ مداخلت صرف ایک پارک تک محدود نہیں بلکہ اس میں ہوٹلز اور تجارتی مراکز بھی شامل ہیں، جو کہ حساس زون تھری کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے سبز اثاثوں اور مارگلہ ہلز کو محفوظ کرنے کا تاریخی فیصلہ کرلیا گیا

دوسری جانب، وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے بھی اس منصوبے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے ماحولیاتی دہشتگردی قرار دیا ہے۔ پیپلز پارٹی ہیومن رائٹس سیل کی جنرل سیکریٹری ملائکہ رضا نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ حکومتی اقدامات سے اب تک 29 ہزار سے زائد درخت تباہ کیے جا چکے ہیں اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر نئے منصوبے تھوپے جا رہے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف نے سی ڈی اے  سے مطالبہ کیا ہے کہ مارگلہ کے حساس علاقوں کو ‘نو گو زونز’ قرار دیا جائے اور تمام منصوبوں کا آزادانہ ماحولیاتی جائزہ لینے تک کام روک دیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp