محصور غزہ میں مشکلات اور جنگی حالات کے باوجود 300 فلسطینی جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب منعقد ہوئی، جسے امید اور یکجہتی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
غزہ کی پٹی میں ایک منفرد اور جذباتی تقریب کے دوران 300 فلسطینی جوڑوں کی اجتماعی شادی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب ایسے وقت میں ہوئی جب خطہ شدید معاشی اور انسانی بحران سے گزر رہا ہے۔
A mass wedding of 300 couples was held in #Gaza during the ceasefire, organized by the United Arab Emirates, which aims to restore joy to the lives of Palestinians affected by the war.
The wedding ceremony was held in Deir al-Balah, 300 couples were selected through a lottery pic.twitter.com/GxfShwHlEE
— Hamdan News (@HamdanWahe57839) April 25, 2026
عرب میڈیا کے مطابق اس اجتماعی شادی کا مقصد نوجوانوں کو شادی کے اخراجات میں مدد فراہم کرنا اور معاشرتی استحکام کو فروغ دینا تھا۔ تقریب میں دلہنوں کو سفید لباس اور دلہوں کو روایتی انداز میں پیش کیا گیا، جبکہ شرکا نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔
📹 Gazze’deki toplu bir düğün töreninden görüntüler. pic.twitter.com/ybjXIWRRlE
— Mahfil (@mahfildijital) April 25, 2026
رپورٹس کے مطابق اس تقریب کے انتظامات مقامی فلاحی تنظیموں اور سماجی اداروں نے کیے، جنہوں نے شادی کے اخراجات، رہائش اور دیگر ضروریات میں معاونت فراہم کی۔ شرکا کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات مشکل حالات میں امید کو زندہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، غزہ سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
علاقے میں جاری کشیدگی اور محدود وسائل کے باوجود اس تقریب کو ایک مثبت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ زندگی اور خوشیاں ہر حال میں جاری رہتی ہیں۔











