پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فوری خریداری کے لیے بین الاقوامی سپلائرز سے بولیاں موصول کر لی ہیں، جس میں 4 بڑی کمپنیوں نے حصہ لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے اپریل اور مئی کے لیے 3 ایل این جی کارگو کی بولیاں طلب کر لیں
میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے 24 اپریل 2026 کو تین ایل این جی کارگوز کے لیے ٹینڈر بند کیا، جس کا مقصد فوری توانائی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ یہ خریداری ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب سپلائی راستوں میں رکاوٹوں اور لوڈشیڈنگ کے باعث طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
پی ایل ایل 140,000 مکعب میٹر کے 3 ایل این جی کارگوز درکار رکھتی ہے، جو جہاز سے براہ راست ترسیل کی بنیاد پر کراچی کے پورٹ قاسم پر فراہم کیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق 4 بین الاقوامی کمپنیوں نے بولیاں جمع کرائی ہیں۔ پہلے شیڈول (27–30 اپریل) کے لیے ٹوٹل انرجیز گیس اینڈ پاور لمیٹڈ نے 18.8800 امریکی ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ کی کم بولی دی۔ دوسرے شیڈول (1–7 مئی) کے لیے وٹول بحرین نے 18.5400 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ کی پیشکش کی۔ جبکہ تیسرے شیڈول (8–14 مئی) کے لیے او کیو ٹریڈنگ نے سب سے کم بولی 17.9970 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ لگائی، جو وٹول بحرین کی 18.7400 ڈالر کی بولی سے کم تھی۔
یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ بحران: آذربائیجان نے پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے کی پیشکش کردی
اسی دوران آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی ایس او سی اے آر نے بھی پاکستان کے ساتھ 2025 کے معاہدے کے تحت ایل این جی کی فوری فراہمی کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، جس کے تحت فوری خریداری ممکن ہے۔
یہ پیشرفت پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور عالمی سپلائرز سے گیس کی درآمد کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔














